تازہ ترین

پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق امریکا کی رپورٹ مسترد کردی

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی...

وزیراعظم کی راناثنااللہ اور سعد رفیق کو بڑی پیشکش

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے...

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پروٹوکول واپس کر دیا

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے چیف...

کاروباری شخصیت کی وزیراعظم کو بانی پی ٹی آئی سے ہاتھ ملانے کی تجویز

کراچی: وزیراعظم شہباز شریف کو کاروباری شخصیت عارف حبیب...

آکسفورڈ کونسل میں برما کی سربراہ آنگ سان سوچی کے خلاف قرارداد منظور

لندن : روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پرمجرمانہ خاموشی پر آکسفورڈ کونسل میں برما کی سربراہ آنگ سان سوچی کے خلاف قرارداد منظورکرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کیخلاف آواز اٹھانے کے بجائے خاموش پر آکسفورڈ کونسل میں برما کی سربراہ آنگ سان سوچی کے خلاف قرارداد منظورکرلی گئی۔

قرارداد برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک و نسل کشی پر آکسفورڈ کونسل میں منظور کی گئی جبکہ آنگ سان سوچی سے فریڈم آف سٹی کا اعزاز بھی واپس لینے کی قراراداد منظور ہوئی۔

آکسفورڈ کونسل نے آنگ سان سوچی کو انیس سو ستانوے میں اعزاز سے نوازا تھا۔

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پرمجرمانہ خاموشی پرآکسفورڈ کونسل کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔.


مزید پڑھیں : آکسفورڈکالج نے آنگ سان سوچی کی تصویرہٹادی


یاد رہے چند روز قبل آکسفورڈیونیورسٹی سے آنگ سان سوچی کی تصویر بھی اتاردی گئی تھی، کالج انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سوچی کی تصویر کالج کے مرکزی گیٹ سے اتاردی گئی، اس جگہ جاپانی آرٹسٹ کی پینٹنگ لگائی جائے گی۔

خیال رہے کہ 1999 میں سوچی کی تصویر یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر لگائی گئی تھی۔

آنگ سان سوچی نےآکسفورڈکالج سے ہی تعلیم حاصل کی تھی اور 1967 میں گریجویٹ کیا جب کہ آکسفورڈکالج نے سوچی کی 67 ویں سالگرہ پر انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا تھا۔


مزید پڑھیں : آنگ سانگ سوچی سے نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ


خیال رہے کہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، آن لائن پیٹیشن میں سوچی سے نوبل پرائز واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا، سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کی پیٹیشن پراب تک لاکھوں افراد دستخط کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانمار یانگ ہی لی نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے وحشیانہ ظلم کی مذمت کرتے ہوئے ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی کی ہزاروں روہنگیامسلمانوں کے قتل پرمجرمانہ خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سلم نسل کشی کی ذمہ دار کیا آنگ سان سوچی کوبے حسی کاانعام ملنا چاہیئے۔

وسری جانب میانمارکی فوج اور بودھ انتہا پسندوں کے مظالم کا نشانہ بننے والے بے یارومددگار روہنگیا مسلمان بدترین حالت میں بنگلہ دیش آمد کا سلسلہ تھم نہ سکا، لاکھوں روہنگیا خواتین،بچے اورمردغذائی قلت کا شکار ہیں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

- Advertisement -