The news is by your side.

Advertisement

2080 میں‌ مچھلیوں کی بڑی پریشانی کیا ہوگی؟

شنگھائی: چینی بحری محققین کا کہنا ہے کہ 2080 میں‌ مچھلیوں کی بڑی پریشانی ان کے سانس لینے سے متعلق ہوگی، سمندر ان کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے، اور ساٹھ عشروں بعد 70 فی صد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مچھلیوں کی سانسیں پھولنے لگیں گی۔

اس سلسلے میں چین میں ایک تحقیقی مطالعہ کیا گیا ہے، جس پر مبنی مقالہ امریکن جیوفزیکل یونین نامی جریدے میں چھپا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ مچھلیوں کے لیے آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے، سمندروں میں دو ہزار اسّی تک ستّر فی صد آکسیجن کم ہو جائے گی، جس کی وجہ سے سمندری حیات کی کئی نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔

اس تحقیقی مطالعے کے مرکزی مصنف اور شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی میں بحری جغرافیے کے ماہر یونتاؤ زھاؤ کا کہنا ہے کہ سمندروں کے درمیان والا حصہ، جہاں پر سب سے زیادہ مچھلیاں پائی جاتی ہیں، وہاں پر لگاتار آکسیجن کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، اور آکسیجن کم ہونے کی شرح کی رفتار غیر فطری ہے۔

تحقیقی ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2021 میں دنیا بھر کے سمندروں میں آکسیجن سنگین سطح پر پہنچ گئی ہے، انسانوں نے آلودگی اس قدر پھیلا رکھی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا اثر سمندروں پر بھی پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندروں میں آکسیجن گھلی ہوئی شکل میں ہوتی ہے، وہ بھی گیس کی شکل میں، جس طرح زمین پر جانوروں کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح سمندری جانداروں کو بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر میں گرمی پیدا ہو رہی ہے، اس کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کی مقدار لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے، مقالے کے مطابق سائنس دان دہائیوں سے لگاتار سمندر میں کم ہو رہی آکسیجن کو ٹریک کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے کلائمٹ ماڈلز کے ذریعے بتایا کہ سمندروں میں ڈی آکسیجنیشن کا عمل تیز ہو جائے گا، اور پوری دنیا کے سمندر اس سے متاثر ہوں گے، ماہرین کے مطابق سمندروں میں گھلی ہوئی آکسیجن ایک بار ختم یا کم ہو جائے تو پھر اسے واپس پہلی والی صورت میں لانا ناممکن ہو جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں