The news is by your side.

Advertisement

رنویرسنگھ کے مذہب سےمتعلق ٹویٹ پر طوفان

بالی وڈ میں ان دنوں اگر کسی فلم کی بات ہوتی ہے تو ہ سنجے لیلا بھنسالی کی ’پدماوتی‘ ہے ‘ فلم میں علاؤ الدین کا کردار ادا کرنے والے رنویر سنگھ کے ایک ٹویٹ نے ایک بار پھر فلم نگری میں ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر رنویر سنگھ نے لکھا کہ ’وہ اپنا مذہب کھو رہے ہیں‘۔ اس ٹویٹ کے بعد سے بی -ٹاؤن میں عموماً اور سوشل میڈیا پربالخصوص ایک بار پھر گوسپ کا طوفان آگیا ہے۔

رنویر سنگھ فلم ’پدماوتی ‘ میں مسلمان بادشاہ علاؤالدین خلجی کاکردار نبھارہے ہیں جو دہلی پر حکومت کرنے والے دوسرے طاقتور ترین سلطان تھے۔ رنویر سنگھ نے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنےکے لیے خود کو مکمل طور پر علاؤالدین کے کردار میں ڈھال لیا تھا۔

کردار کے ساتھ ان کی سنجیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد رنویر نے اس کردار سے نکلنے کے لئے نفسیاتی ڈاکٹر سے اپنا علاج بھی کرایا لیکن لگتا ہے رنویر کردار میں ہی موجود ہیں اور ابھی تک خود کو اس کردار سے آزاد نہیں کراسکے ہیں۔

فلم پدماوتی کے ہیرو اپنے کردار کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے*

رنویر سنگھ نے اپنی بکھرے ہوئے بالوں میں یک رنگی تصویر کے ساتھ ایک ٹویٹ کیا ہےکہ ’میں اپنا مذہب کھورہاہوں‘۔لیکن انہوں نے اپنی ٹویٹ کی وضاحت نہیں کی ہے کہ آخر وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں ‘ تاہم رنویر کی اس مختصر سی ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچادیا ہے۔

یاد رہے کہ پدماوتی فلم ہندوستان کے شدت پسند حلقے پہلے ہی اعتراض اٹھا رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اس فلم میں ہندو رانی ’پدما وتی‘ کی کردار کشی کی گئی ہے جبکہ فلم کے پروڈیوسر سنجےلیلا بھنسالی کئی بار وضاحت کرچکے ہیں کہ فلم میں ایساکچھ نہیں ہے۔

دوسری جانب فلم کا ٹریلر دیکھ کر لگتا ہے کہ پدماوتی کی کردار کشی کی گئی ہویا نہیں لیکن بھارت کے مذہبی حلقوں سے خوفزدہ فلم ساز نے سلطان علاؤ الدین خلجی کو ایک ظالم ‘ جابر اور جنسی طور پر مخبوط حکمران کے طور پر ضرور پیش کیا ہے۔

خیال رہے علاء الدین خلجی کے زمانے میں ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بازار میں ہر چیز کی قیمت مقرر کر دی گئی تھی اور اس پر سختی سے عمل کروایا۔روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی ہونے سے لوگ خوشحال ہو گئے اور علاء الدین خلجی کے مرنے کے بعد بھی عرصہ تک اس کے عہد کو یاد کیا کرتے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں