The news is by your side.

Advertisement

بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنے والے لیکچرار کو 32 سال قید کی سزا

لندن : بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد ڈارک ویب پر نامناسب اور غیر اخلاقی ویڈیوز ڈالنے کے الزام میں برمنگھم یونیورسٹی کے شعبے جیو فزکس کے لیکچرار کو بتیس سال قید کی سزا سنادی گئی.

اے آر وائی نیوز لندن کے نمائندے فرید قریشی کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کے گریجویٹ میتھیو فیلڈر کے خلاف تحقیقات کا آغاز امریکی ادارے ایف بی آئی نے اگست 2013 میں کیا تھا جسے ڈارک ویب کی دنیا میں وی آئی پی کا اسٹیٹس دیا گیا تھا،امریکی ادارے ایف بی آئی نے ڈارک ویب کے وی آئی پی میتھیو کی تفصیلات برطانی نیشنل کرائم ایجنسی کے حوالے کی تھیں۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی چار سال تک تحقیقات کرتے رہے اور بالآخر جون 2017 کو ڈارک ویب کی دنیا کے وی آئی پی اور “شیطان 666 ” کے نام سے جانے جانے والے میتھیو کو برمنگھم یونیورسٹی سے گرفتار کر لیا گیا بعد ازاں اگلے چار ماہ کے اندر میتھیو نے ایک سو سینتیس جرائم کا اعتراف کر لیا جن میں سے 46 مقدمات بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے ہیں۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ میتھیو نے روسی ای میل سروس سے انتہائی خفیہ ای میل ایڈریس حاصل کئے تھے جس کی وجہ سے وہ کئی سال تک قانون کی نظروں سے اوجھل رہا تھا جب کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے میتھیو کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا کسی کو شبہ تک نہیں ہوا تھا تاہم امریکی اور برطانوی تحقیقاتی اداروں نے اس عیار مجرم کو بلآخر نہ صرف گرفتار کرلیا بلکہ جرائم کی طویل کا فہرست اعتراف کرانے اور شواہد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے.

میتھیو سوشل میڈیا پر گمٹری اور دیگر ویب سائٹس سے اپنے شکار کو تلاش کرکے انہیں ناقابل بیان اورغیرانسانی کاموں کے لیے بلیک میل کیا کرتا تھا اور ویڈیو چیٹ کے ذریعے اُن سے وحشیانہ اور مکروہ کام کرواتا تھا جن میں خود کو چھریاں مارنے سے دیرینہ اعضا کاٹنے تک کے انسانیت سوز کام شامل ہیں جب کہ وہ جنسی ہراسیت کے لیے غلیظ ترین ہتھکنڈے بھی استعمال کیا کرتا تھا۔

دوران تحقیقات امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے افسر اسکاٹ کریب نے کہا کہ “میں نے اپنی زندگی میں اتنا گھناؤنا کردار نہیں دیکھا، بچوں کو جنسی مظالم کیلئے بلیک میل کرنے والا یہ شخص درندہ ہے اور اسے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی بھی نہیں ایسے بھیڑیے ہمارے معاشرے میں معصومیت کا لبادہ اوڑھے چاروں طرف موجود ہوتے ہیں اور اس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہو پاتا ہے”۔

میتھیو انسانیت سوز سلوک کی ویڈیو بنانے کا شوقین تھا اور اس نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور وحشیانہ مطالم کی ویڈیوز اور تصاویر ڈارک ویب پر ڈالنے کا بھی اعتراف کیا تھا جس پرتحقیقاتی اداروں نے اس کے گھر کی جامع تلاشی لی اور میتھیو کے کمپیوٹر سے پولیس کو پانچ سو کے قریب انتہائی انسانیت سوز جنسی مظالم پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز ملیں.

آج کی سماعت میں جب عدالت نے جب میتھیو فیلڈر کو بتیس سال قید کی سزا سنائی تو اس کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والے درجنوں افراد اورعوام نے تالیاں بجا کر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ میتھیو کے تعلیمی ادارے کیمبرج یونیورسٹی نے جرم ثابت ہونے کے بعد میتھیو فیلڈر کی فزکس کی ڈگری واپس لینے کا اعلان بھی کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں