The news is by your side.

Advertisement

خوبانی: شمالی علاقہ جات کی سوغات

شمالی علاقوں کا قدرتی حُسن اور آب و ہوا تو مشہور ہے ہی لیکن خاص طور پر سردیوں میں یہ اپنی سوغات یعنی خشک میوہ جات کی وجہ سے بھی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس موسم میں یہاں خرید و فروخت کا سلسلہ عروج پر ہوتا ہے اور یہ سوغات ملک کے دیگر حصوں تک پہنچتی ہے۔

پھلوں میں شمار کی جانے والی خوبانی ملک کے شمالی علاقوں کی خاص پیداوار ہے جسے خشک کر لیا جاتا ہے اور یوں یہ اخروٹ، کاجو، چلغوزہ، پستے کی طرح میوے کی صورت فروخت ہوتی ہے۔ خوبانی کی پیداور میں پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ایک لاکھ ٹن سالانہ سے زیادہ خوبانی پیدا کرتے ہیں۔

گلگت، دیامر اور اسکردو و دیگر علاقوں میں خوبانی کے باغات میں اس پھل کی 60 اقسام پیدا ہوتی ہیں جو نقد آور جنس کا درجہ رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں کی چالیس فی صد دیہی آبادی کی آمدن کا انحصار خوبانی کی کاشت پر ہے۔

یہ پھل اپنی مختلف اقسام کے باعث غذائیت کے اعتبار سے بھی الگ ہوتا ہے۔ شمالی علاقہ جات کی ایک وادی شگر کو خوبانی کی پیداوار کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ یہاں کے اس پھل کو غذائیت میں بہترین ہونے کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں چھوٹے بڑے باغات میں خوبانی پیدا ہوتی ہے جسے مقامی لوگ اپنے پکوانوں کے ساتھ خشک کر کے استعمال کرتے ہیں جب کہ یہی پھل خشک میوے کی شکل میں ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی مختلف اقسام میں ہلمن، کارفو چُلی، مرغولم اور شارہ کارفا مشہور ہیں۔ خوبانی ذائقے میں میٹھی اور نرم ہوتی ہے۔ بعض خوبانیاں خشک کرنے کے بجائے تازہ کھانے میں خوش ذائقہ اور مزے دار ہوتی ہیں۔ یہ مختلف قسم کے سالن بنانے کے علاوہ چٹنیاں، مشروبات اور کیک وغیرہ بنانے میں استعمال کی جاتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں