The news is by your side.

Advertisement

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان پالیسی مذاکرات کا آغاز آج سے ہوگا

اسلام آباد : پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان پالیسی سطح کےمذاکرات آج سےشروع ہوں گے ، جس میں نئےٹیکس لگانےاور وصولیوں کا ہدف کم کرنےکافیصلہ متوقع ہے جبکہ نیپرا اور اسٹیٹ بینک کومزیدخود مختاری دینے کے امور پر بھی غور ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اورپاکستان کےدرمیان پالیسی مذاکرات کاآغاز آج سےہوگا، مذاکرات میں پاکستانی وفدکی قیادت سیکریٹری خزانہ نوید کامران اور آئی ایم ایف وفدکی سربراہی مشن چیف ارنیستورامریز ریگو کریں گے۔

ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ ،ایف بی آر،توانائی، نیپرا،اوگرا ،نجکاری حکام شرکت کریں گے اور ایف بی آرٹیکس محصولات کے ہدف میں کمی کی درخواست کرےگا، نئےٹیکس، شرح میں اضافےسے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکس محصولات کےہدف میں کمی کےحق میں نہیں اور ٹیکس وصولیوں میں کمی پرایف بی آرکی کارکردگی سے ناخوش ہے، ٹیکس اہداف پورےکرنےکیلئےنان ٹیکس ریونیومیں اضافہ کیاجائے گا اور نان ٹیکس ریونیو کیلئےنقصان زدہ اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلےمرحلےمیں6اداروں،بعدازاں27اداروں کی نجکاری ہوگی جبکہ بجلی،گیس قیمتوں میں اضافہ نہیں کیاجائے گا ، آئی ایم ایف کو قیمتوں میں اضافہ نہ کرنےسےآگاہ کردیاگیا ہےکہ بجلی،گیس قیمتوں میں اضافےکیلئےمربوط نظام لایاجارہاہے۔

مذاکرات میں ریگولیٹری باڈیز نیپرا اور اوگرا کو آزادانہ کام کرنے کی شرط کا جائزہ لیا جائے گا اور منی بجٹ لانے یا 200 ارب روپے کے ٹیکسز اقدامات پر بھی فیصلہ ہوگا۔

آئی ایم ایف اورپاکستان کےدرمیان مذاکرات تیرہ فروری تک جاری رہیں گے، مذاکرات کی کامیاب تکیمل پرپاکستان کوقرض کی تیسری قسط مل جائےگی، قسط کا حجم 45 کروڑڈالرہوگا۔

وزیراعظم کےمشیر برائےخزانہ حفیظ شیخ کاکہناہےکہ ٹیکس وصولیوں میں کمی اورمالیاتی مسائل کےپیش نظرفیسکل ایڈجسٹ منٹ کی جاسکتی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں