تازہ ترین

طویل مدتی قرض پروگرام : آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے...

ملک میں معاشی استحکام کیلئےاصلاحاتی ایجنڈےپرگامزن ہیں، محمد اورنگزیب

واشنگٹن: وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک...

کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنیوالے 3 پولیس افسران سمیت 7 گرفتار

کراچی : پولیس موبائل میں جدید اسلحہ سندھ اسمگل...

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

آج صبح پاکستان نے افغانستان کے اندر انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ آج صبح پاکستان نے افغانستان کے اندر انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، جن میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق آج صبح پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلیجنس بنیاد پر کارروائیاں کیں، جن کا ہدف تحریک طالبان پاکستان حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔

ترجمان نے کہا یہ دہشت گرد پاکستان کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادتیں ہو چکی ہیں، تازہ ترین حملہ 16 مارچ 2024 کو میر علی میں ایک سیکورٹی پوسٹ پر ہوا جس میں 7 پاکستانی فوجیوں کی جانیں گئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا دہشت گرد پاکستانی حدود میں حملوں کے لیے مسلسل افغان سرزمین کا استعمال کرتے رہے ہیں، پاکستان افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، نیز پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ بات چیت اور تعاون کو ترجیح دی ہے۔

ترجمان نے کہا افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے پر بار ہا زور دیا گیا، اور مطالبہ کیا گیا کہ ٹھوس اور مؤثر کارروائی کریں،ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں دینے سے انکار اور قیادت پاکستان کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، لیکن افغانستان میں اقتدار میں رہنے والے کچھ عناصر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کر رہے ہیں، اور ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک برادر ملک کے خلاف اس طرح کا رویہ کم نظری کو ظاہر کرتا ہے، دہائیوں تک افغان عوام کے لیے پاکستانی حمایت کو نظر انداز کیا گیا، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ افغانستان میں اقتدار میں موجود عناصر دہشت گردوں کا ساتھ دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کریں، ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے اجتماعی خطرہ ہیں، اور اس خطرے سے نمٹنے میں افغان حکام کو درپیش چیلنج کا ہم بخوبی ادراک رکھتے ہیں، اس لیے پاکستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حل تلاش کرنے کا کام جاری رکھے گا، اور دہشت گرد تنظیم کو افغانستان سے تعلقات سبوتاژ کرنے سے روکنے پر کام جاری رہے گا۔

Comments

- Advertisement -