The news is by your side.

Advertisement

حکومت کی چین سے مزید 1.2 ارب ڈالر کا قرضہ لینے کی تیاری

اسلام آباد : کشکول توڑنے کی دعویدار حکومت نے ایک بار پھر ہاتھ پھیلا دیئے اور چین سے مزید 2ارب ڈالر تک کے قرض کیلئے رجوع کر لیا ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق ملکی معیشت میں بہتری کے بلند وبانگ دعووں کے باوجود ملک قرضوں کے جال میں پھنستا جارہا ہے، قرضوں کی ادائیگیاں ، رزمبادلہ ذخائر میں ہوتی کمی حکومت کے پاس مزید قرضہ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

حکومت نے ایک بار پھر چین سے مزید 1.2 ارب ڈالر تک کا قرضہ لینے کی تیاری کرلی، جس کے بعد رواں مالی سال پاکستان کے چین سے قرض کا حجم 5 ارب ڈالر ہوجائے گا۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہورہی ہے اور امریکا سے تعلقات کی خرابی کے بعد پاکستان کا چین پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کا آئندہ مالی سال میں دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام لینے کا خدشہ ہے، سال 2013 میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6.7 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔


مزید پڑھیں : پاکستان کو چین سے ایک ارب ڈالر موصول


یاد رہے کہ اپریل میں بھی پاکستان نے چینی بینکوں سے ایک ارب ڈالر کا قرض لیا تھا، یہ رقم انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا سے لی گئی تھی۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت نے جاتے جاتے مزید 150 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا تھا، نیا قرض مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں سے لیا جائے گا۔

حکومت 50 ارب روپے کا قرض 30 مئی کو لے گی جبکہ سو ارب روپے کا قرض بعد میں نگراں حکومت جون اور جولائی میں لے گی۔

خیال رہے کہ نون لیگ نے ساڑھے چار سال میں تینتالیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر اداروں سے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔

سال 2018 میں بننے والی نئی حکومت کو مجموعی طور پر پچیس ارب ڈالر کے قرضے اتارنے ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں