The news is by your side.

Advertisement

عمرہ زائرین کی سعودی عرب میں غیر قانونی سکونت، پاکستانی سرفہرست

ریاض: سعودی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 6 ہزار سے زائد پاکستانی عمرہ زائرین سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

سعودی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2017-2016 کے دوران چودہ لاکھ تریپن ہزار چار سو چالیس (1453440) پاکستانی زائرین کو عمرے کے ویزے جاری کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے عمرہ ادائیگی کے لیے آنے والے اکثر افراد کی تعداد واپس چلی گئی تاہم چھ ہزار نو سو پانچ (6905) زائرین تاحال سعودی عرب میں ہی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

سعودی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بعد نائیجیریا کے 1629، مصر کے 1081 جبکہ انڈونیشیاء اور سوڈان کے 592 زائرین ویزہ ختم ہونے کے بعد بھی مملکت میں تاحال موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ پاکستان اور پھر انڈونیشیاء سے 876،246 ، مصر 608،561 اور چوتھے نمبر پر بھارت سے پانچ لاکھ پچیس ہزار دو سو اٹھتر زائرین عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب تشریف لائے۔

اس ضمن میں نیشنل کمیٹی کے سربراہ ماروان شعبان نے اعلیٰ سطح اجلاس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزارتِ حج و عمرہ کو ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں نئی پالیسی تشکیل دیں تاکہ کوئی بھی شخص عمرہ ویزے ختم ہونے کے بعد سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار نہ کرسکے۔

کمیٹی نے نئی سال کے لیے عمرہ ویزوں کے لیے بھی پالیسی ترتیب دی جس کے مطابق اب یکم محرم سے 30 شوال (ہجری کلینڈر) سال کے 12 ماہ اور 300 دن عمرے کے ویزے جاری کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے کسی بھی ملک کے مسلمان باشندے کو عمرے کا ویزہ جاری کیا جاتا ہے جس کی معیاد پندرہ روز سے ایک ماہ تک کی ہوتی ہے تاہم کچھ افراد عمرہ ادائیگی کے بعد وہاں کاروبار کے لیے غیرقانونی طور پر سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں