The news is by your side.

Advertisement

بے جان تنکوں سے تصویریں بنانے والا پشاور کا فن کار

تحریر: واحد خان

تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ شوق اور کچھ کر دکھانے کی لگن اگر کسی انسان میں ہو تو وہ بیکار اور غیر اہم چیز کو بھی کارآمد اور مفید بنا سکتا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے شہری سیّد عابد شاہ بھی ایک ایسے ہی فن کار ہیں جو گندم کے عام سے اور بے جان تنکوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کام لے کر کچھ اس طرح سجاتے ہیں کہ ان میں گویا جان پڑ جاتی ہے۔

سیّد عابد شاہ سٹرا پینٹنگ کے نام سے معروف قدیم فن کو 50 سال سے اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ تنکوں سے پورٹریٹ بناتے ہیں۔ انھوں نے یہ کام گیارہ سال کی عمر سے شروع کیا تھا۔ سیّد عابد شاہ کا کہنا ہے کہ اس فن کی نمود چین کے ہان شاہی خاندان کے دور میں ہوئی تھی۔ انھوں نے یہ فن اپنے ماموں سے سیکھا اور پاکستان میں تنکوں سے تصویریں بنانے اور منظر کشی کرنے والے چند آرٹسٹوں میں سے ایک ہیں۔

انھوں نے اے آر وائی کو بتایا کہ ایک پورٹریٹ بنانے میں پندرہ سے بیس دن لگ سکتے ہیں، یہ کام صبر اور محنت طلب ہے، آج کل سندری اور خطّاطی کا کام زیادہ کررہا ہوں۔ سیّد عابد شاہ کا کہنا تھا کہ میں پورٹریٹ بالکل نہیں بناتا، لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلمان کا پورٹریٹ بڑی محبّت سے بنایا تھا، کیوں کہ وہ امّتِ مسلمہ کے لیڈر ہیں، خواہش ہے کہ سعودی ولی عہد مجھے بلائیں اور میں انھیں اپنے ہاتھ سے یہ پورٹریٹ پیش کروں۔

سیّد عابد شاہ یہ کام اپنے بیٹے کو سکھا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے کسی بھی فن کی سرپرستی اور قدر افزائی کے لیے کوئی ادارہ نہیں‌ بنایا گیا ہے، جہاں کوئی ماہر اور استاد اپنا ہنر دوسروں کو باقاعدہ سکھا سکے۔حکومت خیبر پختونخوا سے درخواست ہے کہ اس طرف توجہ دے۔ گندم کے تنکوں کا یہ آرٹ بیرونِ ممالک بھی پسند کیا جاتا ہے۔ اب تک کئی ممالک کے لیے آرڈر پر کام کرچکا ہوں۔

انھوں نے بتایا کہ پورٹریٹ بنانے پر خرچہ تو کم آتا ہے، لیکن اس میں محنت زیادہ ہے۔ سیّد عابد شاہ فن اور ہنر سے متعلق کئی میلوں میں بھی شریک ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں