The news is by your side.

Advertisement

گوانتاموبے: پاکستانی شہری احمد ربانی کی رہائی کیلئے اجلاس، الزامات مسترد

واشنگٹن: گوانتاموبے میں 14 برس سے قید پاکستانی شہری احمد ربانی کی رہائی سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں احمد ربانی نے خود پر لگائے گئے الزامات مسترد کردیے۔

اے آر وائی نیوز واشنگٹن کے نمائندے جہانزیب علی کے مطابق گوانتاموبے میں 14 برس سے قید پاکستانی شہری احمد ربانی کی رہائی کے لیے پریاڈک ریویو بورڈ(پی آر بی) کا اجلاس منعقد ہوا، پینٹاگون میں اجلاس کی براہ راست کارروائی میڈیا کو بھی دکھا ئی گئی جس میں‌ احمد ربانی کو سامنے بٹھا کر ان پر عائد کردہ الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔

الزامات سننے کے بعد احمد ربانی نے انہیں مسترد کردیا اور کہا کہ ان تمام جرائم کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کے القاعدہ سے تعلق کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

اجلاس میں حکام نے ان سے استفسار کیا کہ وہ ملائشیا جانا چاہتے ہیں تو ربانی نے کہا کہ نہیں میں پاکستان جانے کا خواہش مند ہوں، چودہ برس سے قید میں ہوں اور میں نے آج تک اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا، بقیہ زندگی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔

اجلاس کے دوران امریکی حکام نے بتایا کہ قید کے دوران احمد ربانی کی ہر ماہ ان کے اہل خانہ سے بات کرائی گئی، ربانی کی صحت ٹھیک ہے۔

امریکا کی رسوائے زمانہ جیل گوانتاناموبے میں قید پاکستانی شہری احمد ربانی کو 14 برس بعد رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،چودہ برس بعد ان پر لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوگئے ہیں۔


الزامات غلط ثابت، امریکا میں قید پاکستانی شہری کو 14 سال بعد رہا کرنے کا فیصلہ


احمد ربانی سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور اٹھارہ برس کی عمر میں کراچی منتقل ہوگئے، وہ یہاں ٹیکسی ڈرائیور تھے،انہیں عربی زبان پر مکمل عبور حاصل تھاجس پرانہیں یمنی باشندہ سمجھ لیا گیا، انہیں دوہزار دو میں القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سارے معاملے کا ایک اور دکھ بھرا پہلو یہ ہے کہ امجد ربانی کا 14برس کا بیٹا ہے جسے انہوں نے آج تک نہیں دیکھا، چودہ برس کے دوران پاکستانی حکومت نے آج تک کبھی بھی یہ معاملہ امریکا سے نہیں اٹھایا اور اس معاملے پر کبھی بات نہیں کی کہ ان کے قیدی کو بغیر ثبوت کیوں رکھا ہوا ہے اور رہا کیوں نہیں کیا جارہا۔

نمائندے کے مطابق اور بھی کئی قیدی ہیں جنہیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا، گزشتہ ماہ بھی عدم ثبوت کی بنا پر 15قیدی رہا کرکے متحدہ عرب امارات کو دیے گئے تھے۔

جہانزیب علی نے پاکستان سفارت خانے کے اعلیٰ حکام سے بات کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ احمد ربانی کو کب اور کس جرم میں گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ جیل میں اس وقت احمد ربانی، سیف اللہ پراچہ، خالد عمر،عمارال بلوچ  اور ماجد خان سمیت چھ پاکستانی شہری قید ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں