The news is by your side.

Advertisement

چالیس برس قبل سعودیہ جانے والے پاکستانی خاندان بڑی مشکل کا شکار

ریاض: چالیس برس قبل سعودیہ عرب جانے والے کئی پاکستانی خاندانوں کو سعودی حکام نے ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، پاکستانی سفارت خانے نے ان کے بچوں کو ویزا دینے سے انکار کردیا، والدین پریشان ہیں کہ بچے چھوڑ کر کہاں جائیں؟ ہمیں نکال دیا تو بچے کہاں جائیں گے؟

بیورو چیف سکھر لالہ اسد پٹھان نے بتایا کہ آج سے 40 برس قبل سعودی عرب کے مختلف شہروں میں پاکستان سے کام کاج کے لیے کافی لوگ گئے ، انہوں نے آپس میں شادیاں کرلیں یا مقامی خواتین سے شادیاں کیں اور ان سے ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔

ان بچوں کی پاکستانی سفارت خانوں میں رجسٹریشن نہیں ہوپائی ایک ایک خاندان میں پانچ پانچ یا سات  یا آٹھ بچے پیدا ہوئے جن کی عمریں 20 سال سے 6 سال کے درمیان ہیں ۔

اب یمن کی صورتحال کے بعد کئی کمپنیاں سعودی عرب چھوڑ چکی ہیں وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کے ویزے بھی ایکسپائر ہوچکے ہیں جنہیں سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا جاچکا ہے تاہم ان کے بچوں کے پاس نہ پاسپورٹ ہیں اور نہ ویزے اور نہ ان کے پاس پاکستان واپس آنے کے لیے ٹکٹ ہیں۔

اس وقت وہ خاندان بہت ہی پریشان ہیں، کئی خاندان جدہ میں موجود ہیں جنہیں پاکستانی سفارت خانے کی مالی او ر قانونی مددکی ضرورت ہے تاکہ ان کے ٹکٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا بندوبست کیا جاسکے۔

اطلاعات ہیں کہ ان خاندانوں کے بچےسعودی عرب یا پاکستان کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان کے والدین اپنے بچے چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جاسکتے جبکہ سعودی حکام انہیں ملک چھوڑنے کی ڈیڈی لائن دے چکے ہیں۔


Saudi Arabia by arynews
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پاکستانی شہری اپنے اہل و عیال کے ساتھ بیٹھا درخواست کررہا ہے کہ انہیں سعودی عرب چھوڑنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض چند دن رہ گئے ہیں، بچوں کے پاسپورٹ نہ ہونے سے وہ کہیں اور منتقل نہیں ہوسکتے جب کہ پاکستانی سفارت خانے نے بچوں کی رجسٹریشن اور ان کے پاسپورٹ بنانے سے انکار کردیا ہے۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ خدارا ہماری مدد کی جائے ہمارے بچوں کی رجسٹریشن کرک انہیں پاسپورٹ اور ویزا دیا جائے تاکہ وہ وطن واپس آسکیں۔


یہ بھی پڑھیں: ملتان: سعودی عرب جانے والا نوجوان عمر بھر کے لیے معذور، والدین نے جمع پونجی لٹادی


 اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں