The news is by your side.

Advertisement

سرکاری اسپتالوں میں زیرِعلاج رہنے والے پاکستانی سیاستداں

سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے آج لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کردیا گیا، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سیاست دان علاج کی غرض سے سرکاری اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔

پاکستان میں عموماً روایت ہے کہ نامور سیاسی شخصیات علاج کے لیے ملک سے باہر جاتی ہیں ، لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں اسی ملک کے اسپتالوں میں علاج کرانا پڑجاتا ہے۔

عموماً اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ عدالت کے احکامات ان کے پاؤں کی زنجیر بنتے ہیں یا دورانِ قید انہیں بحالت مجبوری سرکاری اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

ایسے موقع پرسرکاری اسپتال میں بھی انہیں ایسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک بیڈ پر 4، 4 مریضوں کو لٹانے والی اسپتال انتظامیہ بھی حرکت میں آجاتی ہے اور انہیں دنیا کی تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے۔

حالیہ سیاسی منظر نامے میں صرف وزیراعظم عمران خان وہ سیاست داں ہیں جنہوں نے گزشتہ الیکشن میں کرین سےگرنے کے بعد اپنا تمام تر علاج شوکت خانم سے ہی کروایا، سرکاری عہدیداران میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنا علاج اپنی مرضی سےاسلام آباد کے پمز اسپتال میں کروایا تھا۔

آئیں دیکھتے ہیں کون کون سے سیاستدان سرکاری اسپتالوں میں زیرعلاج رہیں۔

ڈاکٹرعاصم حسین

 پیپلزپارٹی کے رہنما اورسابق مشیربرائے پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین کراچی کے مشہورو معروف ضیا الدین اسپتال کے مالک ہیں تاہم جیل میں قید کے دوران جب ان کی طبیعت ناساز ہوئی تو انہیں کراچی کے جناح اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، اور وہیں  ان کا مکمل علاج بھی ہوا۔

سابق صدرپرویزمشرف

سنہ 2014 میں سابق صدرپرویز مشرف جب اپنے خلاف کیس کی سماعت کے لیے عدالت جارہے تھے تو راستے میں ان کی طبیعت ناساز ہوئی جس کے بعد انہیں راولپنڈی کے آرمڈ فورسز کارڈیالوجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں کئی دن وہ زیرِعلاج رہے۔ اس کے بعد انہیں کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔

احسن اقبال

مسلم لیگ ن کے رہنما اورسابق وزیراحسن اقبال پرگزشتہ برس قاتلانہ حملہ ہوا تو وہ بھی لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج رہے، وہیں ان کا تمام ترعلاج ہوا اور اب وہ مکمل صحت مند زندگی گزاررہے ہیں۔

عمران خان

سنہ 2013 میں وزیر اعظم عمران خان جب اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے تو الیکشن سے دو دن پہلے وہ کئی فٹ بلند اسٹیج سے نیچے گر پڑے، حادثے میں ان کے سر اور گردن پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے ہی قائم کردہ فلاحی اسپتال شوکت خانم میں زیرعلاج رہنے کو ترجیح دی۔

سابق چیف جسٹس

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار گو کہ سیاست داں نہیں لیکن پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پران کے گہرے اثرات ہیں۔ گزشتہ برس دل کی تکلیف کے باعث اسلام آباد کے پمز اسپتال میں داخل ہوئے، اسپتال میں ماہرینِ امراضِ قلب نے انہیں اسٹنٹ لگائے اور محض ایک دن آرام کرکے وہ معمول کے فرائض انجام دینے عدالت میں موجود تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں