The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا میں عالمی روبوٹ اولمپیاڈ میں پاکستانی طلبہ نے پوزیشن حاصل کر لی

کراچی: شہر قائد کے طلبہ عالمی روبوٹک مقابلے میں چھا گئے، آگ پر قابو پانے والا روبوٹ عالمی مقابلے میں چوتھی پوزیشن لے اڑا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی ہونہار طالب علموں نے قدرتی آفات سے نمٹنے والا روبوٹ تیار کر لیا، عالمی روبوٹک چیمپئن شپ میں پاکستانی طلبہ کے اس پروجیکٹ نے اعزاز حاصل کر لیا، کینیڈا میں ہونے والے مقابلے میں 70 ممالک شامل تھے۔

ابراہیم، برہان الدین اور مستنصر کا تعلق کراچی سے ہے، جو ساتویں، آٹھویں اور دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں، ان کے ٹیچر حسین نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بتایا کہ بچوں نے جو پروجیکٹ تیار کیا اس میں لیگوز کے پارٹس کا استعمال کیا گیا ہے، یہ پارٹس بچوں نے آپس میں جوڑ کر روبوٹ کی شکل دی، پارٹس جوڑنے کے بعد اس کی پروگرامنگ کی جاتی ہے، اور اس کے بعد یہ روبوٹ کی طرح حرکت کرتے ہیں۔

پروجیکٹ کے بارے میں طالب علم ابراہیم نے بتایا کہ ہم نے حال ہی میں کینیڈا میں منعقدہ ورلڈ روبوٹ اولمپیاڈ (WRO) میں حصہ لیا تھا، انھوں نے ہمیں چیلنج دیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی پر کچھ کرنا ہے، تو ہم نے جنگلات میں آتش زدگی کے موضوع کو چُنا، کیوں کہ عالمی سطح پر اس سے جنگلات میں بڑی تباہی پھیل جاتی ہے۔

ابراہیم کا کہنا تھا پروجیکٹ کے لیے چار روبوٹ ڈیزائن کیے گئے، جب آگ لگتی ہے تو حدت کو ڈیٹیکٹ کرنے والی ایک مشین میں انفرا ریڈ سیکورٹی الارم بجتا ہے، جس کے بعد اسپرنکل روبوٹ وہاں پہنچ جاتا ہے اور تیزی کے ساتھ آگ پر پانی کا چھڑکاؤ کرتا ہے۔

انھوں نے کہا ایسے حالات میں ایک بنیادی مسئلہ بہت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ہوتا ہے، تو اس کے لیے الگ روبوٹ ہم نے ڈیزائن کیا ہے جس میں ایک فین فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کھینچ کر اسٹور کر لیتا ہے، یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پھر جیو تھرمل پاور پلانٹ میں آ کر خارج ہو جاتا ہے۔

دوسرے طالب علم برہان الدین نے بتایا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، آئرن آکسائیڈ اور پانی کے ساتھ پروسس ہو کر فیروک نکالتا ہے جو بہت مفید چیز ہے، ہوا میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہوتا ہے یہ اس کو جذب کرتا اور اپنی بنیاد مضبوط کرتا ہے، یہ پھر قدرتی آفات میں تباہ نہیں ہوتا اور پھر اسے توانائی پیدا کی جاتی ہے۔

ابراہیم نے بتایا کہ انھوں نے یہ پورا پروجیکٹ 2 ہفتوں کے اندر تیار کیا تھا، طلبہ کے ٹیچر حسین کا کہنا تھا کہ یہ چاروں مشینیں ایک ہی پروجیکٹ کا حصہ ہیں، سب مختلف کام کر کے پروجیکٹ کی تکمیل کرتی ہیں، ایک مشین الارم بجاتی ہے، دوسری پانی کا چھڑکاؤ کرتی ہے، تیسری کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتی ہے اور چوتھی مشین جیو تھرمل پاور پلانٹ کی ہے جہاں فیروک کا اخراج ہوتا ہے۔

ان ہونہار طلبہ نے کرونا وبا کے سلسلے میں بھی ایک کو وِڈ اسسٹنٹ پروجیکٹ ڈیزائن کیا ہے، یہ مشین کرونا مریضوں کو پانی اور دیگر اشیا پہنچانے کے کام آتی ہے، اور نرسز کو مریض کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ٹیچر حسین نے بتایا کہ یہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں، ان کو صرف اشارہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد مزید رہنمائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیگوز کے پارٹس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس پوری کٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں