میں نے ہوش سنبھالا تو جس حکمران کا نام کانوں میں پڑا تھا وہ ایوب خان تھے۔ تب خیبر پختونخوا کا نام صوبۂ سرحد تھا۔ ایوب خان اس صوبے کے ضلع ہزارہ کے شہر ہری پور کے گاؤں ریحانہ کے رہنے والے تھے۔ شاید یہی سبب رہا ہوگا کہ اس صوبے سے آنے والے ٹرالروں، ٹینکروں اور ٹرکوں پر ایوب خان کی تصویر بنی ہوتی۔
ہمارا شہر مال بردار گاڑیوں کی ایسی قدیم گزر گاہ پر واقع تھا جن کی ایک طرف اگر منزل صوبہ سرحد، شمالی علاقہ جات حتٰی کہ افغانستان کے علاقے ہوتے تو دوسری طرف انہیں ڈھلیاں اور تلہ گنگ کے راستے اندرون ملک اور کراچی بندرگاہ تک جانا ہوتا۔ ان ٹرکوں اور ٹرالوں کے عقبی ڈھانچے پر مصوروں نے جس شخصیت کی سب سے زیادہ تصویریں بنائی ہوں گی وہ ایوب خان تھے۔
ٹرک آرٹ کے ان شوخ رنگ شاہ پاروں میں ایوب خان کو ہمیشہ فوجی وردی میں دکھایا جاتا تھا۔ سر پر فوجی ٹوپی، ہاتھ میں چھڑی، سینے اور کندھوں پر بہت سارے تمغے اور رینک کے نشان۔
اس سب نے اس تصویر والی شخصیت کا رعب بڑھا دیا تھا۔ ہمارے علاقے میں فوجیوں کو ویسے بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اوریہاں ہر گاؤں، ہر قصبے اور ہر شہر سے لوگ فوج کا حصہ بنتے رہتے تھے۔ ایوب خان کے ساتھ گاہے گاہے ایک اور تصویر بھی نظر آ جاتی تھی۔
اس تصویر والی شخصیت کا رُعب الگ طرح کا تھا۔ یہ تصویرتاؤ دی ہوئی مونچھوں اور نخوت اچھالتے چہرے والے گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان کی ہوتی تھی۔ کبھی سیاہ، کبھی سفید شیروانی، زر تار کلاہ پر مکلف طرّے دار ابرق لگی سفید دستار جس کا ایک لڑ گردن سے پشت کی سمت جاتا ہوا نظر آتا تھا۔ یہ سب اتنے قرینے سے ٹرک آرٹ کے مصوروں نے تصاویر کا حصہ بنایا ہوتا تھا کہ اُن سے جاگیردارانہ کروفر جھلک دینے لگتا تھا۔ انہی دو شخصیات کے تصویریں ہمیں حجام کی دکانوں اور ہوٹلوں کے علاوہ اس دکان پر بھی نظر آجاتی تھیں جہاں خالص افیون بکتی تھی۔ ان تصویروں کا نشہ بھی اُن دنوں خالص افیون کا سا تھا۔
(حمید شاہد کی خود نوشت ’خوشبو کی دیوار کے پیچھے‘سے مقتبس)