The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس : نوازشریف اوران کے بچے دوسری پیشی پر بھی نہ آئے

لاہور : پاناما کیس کی تفتیش کے سلسلے میں دوسری بار طلبی کے باوجود شریف خاندان نیب کے سامنے پیش نہ ہوا، باپ، بیٹے، بیٹی، داماد،سمدھی کوئی بھی نیب کے سمن کو خاطرمیں نہ لایا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر نیب میں پاناما کیس میں مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، نواز شریف پاناما کیس کی مزید تفتیش میں رکاوٹ بن گئے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نیب تفتیشی عمل آگے نہ بڑھا سکا۔ شریف خاندان نے نیب ریفرنس کو مذاق بنادیا، احتساب کے قومی ادارے کے ساتھ غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا۔

شریف خاندان دوسری پیشی پر بھی نیب حکام کے سامنے پیش نہ ہوا اور ایک بار پھر نیب کی تفتیشی ٹیم کو لفٹ نہیں کرائی، تفتیشی افسر انتظارکرتے رہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف اوران کے بچے دوسری پیشی پر بھی نہ آئے۔

ایون فیلڈ کیس میں نیب نے نااہل سابق وزیراعظم نوازشریف سمیت بیٹے بیٹی داماد اور سمدھی کو صبح دس بجے پیشی کا سمن جاری کیا تھا، باپ، بیٹے، بیٹی، داماد، سمدھی کوئی بھی نیب کے سمن کو خاطر میں نہ لایا۔

 تعطیل کے روز راولپنڈی سے لاہور آنے والی نیب ٹیم دفتر میں موجود رہی، لیکن شریف خاندان اتوار کی چھٹی انجوائے کرنے کے موڈ میں رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شریف خاندان کسی صورت نیب حکام سے تعاون پر آمادہ نظرنہیں آتا، شریف خاندان نے پیشی کا تیسرا سمن بھی نظر انداز کیا تو نوازشریف سمیت حسن حسین نواز اور اسحاق ڈار کو گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔


مزید پڑھیں: شریف خاندان نے نیب میں طلبی کا نوٹس ہوا میں اڑا دیا


یاد رہے کہ شریف خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ نااہلی کیس میں نظر ثانی کی اپیل پر فیصلہ آنے تک نواز شریف یا ان کے صاحبزادوں میں سے کوئی بھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔


نظر ثانی کی اپیل: شریف خاندان کا نیب میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ


 مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چوں کہ نیب میں جتنے بھی کیسز چل رہے ہیں ان کی نگرانی سپریم کورٹ کا جج کرے گا اس لیے سابق وزیر اعظم کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں، ن لیگ نظر ثانی کی اپیل کا انتظار کرے گی، اگر فیصلہ مخالف آیا تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

شریف خاندان کی عدم پیشی، نیب کے پاس اور ریفرنس دائر کرنے کا اختیار



اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں