site
stats
اہم ترین

پیراڈائز لیکس: سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی ٹیکس چور نکلے

icij

واشنگٹن : آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کام کرنے والی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے نے پیراڈائز لیکس کی دستاویزات جاری کردیں، مذکورہ دستاویز میں پہلا نام ٹیکس چوری کرکے آف شور کمپنی بنانے والے شوکت عزیزکا ہے، این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کا نام بھی شامل ہے۔

آئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیررڈ رائل کے مطابق  وہ دنیا کے انتہائی خفیہ رازوں کے بیس فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اس بار بھی طریقہ کار پاناما پیپرز کی طرح ہی ہے، پیراڈائزپیپرز کی دستاویزات خود منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیراڈائز لیکس کی دستاویزات جاری کردی گئیں ہیں، ان دستاویز میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا پہلا نام سامنےآگیا۔

سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی ٹیکس چور نکلے

ملک کو قرضوں اور ٹیکسوں کی دلدل میں دھکیلنے والےسابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی ٹیکس چور نکلے، پیراڈائز پیپرز کے مطابق شوکت عزیز نے وزارت داخلہ کے دور میں انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا تھا، ٹرسٹ کی بینیفشری شوکت عزیز کی اہلیہ بچے اور پوتی ہیں۔

بیس اگست 2004 سے15نومبر2007 تک وزیراعظم رہنے والے شوکت عزیز نے انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا، شوکت عزیز نےجب ڈیلویئر میں ٹرسٹ قائم کیا تو اس وقت ملک کے خزانے کی چابی ان کے پاس تھی لیکن وزارت خزانہ اور بعد میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے باوجود ٹرسٹ کو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

شوکت عزیز کے وکیل نے کہا ہے کہ انہیں دستاویزات پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں، سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بچوں کو بھی ٹرسٹی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں، ان کے بچے بینیفشری ہیں بینیفشل اونر نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیکس چوری کر کے آف شور کمپنیاں بنانے والوں میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے13قریبی ساتھیوں کے نام سامنےآگئے۔

پیراڈائز پیپرز نے ڈونلڈٹرمپ اور روس کا کاروباری گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا، امریکی صدر کے ارب پتی سیکریٹری کامرس کے روس میں کاروبار ہیں۔

سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز نیازی بھی ٹیکس چوروں میں شامل

شوکت عزیز کے علاوہ این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی بھی ان پردہ نشینوں میں شامل ہیں، پیراڈائز پیپرز کے مطابق ایاز خان نیازی بھی ٹیکس چوری کرنے کے لیے آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے۔

ایاز خان نیازی کی ایک کمپنی ٹرسٹ اینڈ لشین ڈسکریشنری کےنام سے ہے جبکہ باقی تین کمپنیاں انڈلشین، اسٹیبشلمنٹ لمیٹڈ، انڈلشین انٹرپرائز لمیٹڈ اور انڈلشین ہولڈنگز لمیٹڈ کے نام سے ہیں، تینوں کمپنیاں دو ہزار دس میں قائم کی گئیں،ایاز خان کے دو بھائی اور والد کے نام بطور ڈائریکٹر پیراڈائز پیپرز میں شامل ہیں۔

سال دوہزار نو میں ایاز خان نیازی کو این آئی سی ایل بڈنگ میں تزئین و آرائش کے ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن دسمبر دوہزار گیارہ میں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا۔

یاد رہے کہ این آئی سی ایل کے سابق چئیرمین ایاز خان کی تقرری سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دی تھی۔

قطری خط  سے مشہورحماد بن جاسم الثانی کا نام بھی شامل

امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن کا نام بھی پیراڈائز لیکس میں شامل ہے، ارجنٹیناکے صدرموریشو ماسری کا نام بھی سامنےآگیا، قطر کے سابق وزیراعظم اور پانامہ کیس میں قطری خط کے حوالے سے مشہورحماد بن جاسم الثانی کا نام بھی پیراڈائز لیکس میں موجود ہے۔

گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو بھی آف شور کمپنیوں کے مالک

پیراڈائز پیپرز کے مطابق مائیکرو سافٹ اور ای بے کے بانیوں کے نام بھی سامنےآگئے، نامورگلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں نکلیں۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیزکا نام بھی پیراڈائز لیکس میں شامل ہے، امارات کےصدر،ابوظہبی کےامیرخلیفہ بن زیدالسلطان النہیان، یوکرائن کے صدر اورآسٹریلوی وزیراعظم اور سعودی سابق ولی عہد محمد بن نائف کا نام بھی سامنے آگیا۔

ڈائریکٹرآئی سی آئی جے جیررڈ رائل کے مطابق پیراڈائر پیپرز ایپل بائے گلوبل نامی کمپنی کی خفیہ دستاویزات ہیں، ایپل بائے کمپنی کی ایک کروڑ 30 لاکھ دستاویزات افشا کی جارہی ہیں، پیراڈائز پیپرز کی دستاویزات کا تعلق 67 ممالک سے ہے، ایپل بائی گلوبل کمپنی کے دفاتر کے مین آئی لینڈ اور برمودا میں ہیں۔

علاوہ ازیں پیراڈائز پیپرز میں شام کےصدر بشار الاسد کےکزن، جاپان کے سابق وزیر اعظم، ترکی کے وزیر اعظم بینالی یلدرم کے دو بیٹوں، بھارتی وزیر ہوابازی جےناتھ سنہا، اردن کی ملکہ نورالحسین، کولمبیا کے صدر اور لائبیریا کی صدر، امریکی سیکریٹری آف کامرس ویل لیوس روز ، یوکرائن کے نائب وزیر اعظم، یوگنڈا کے وزیرخارجہ سمیت روسی صدر پیوٹن کے دوستوں کے نام بھی پیراڈائزپیپرز میں شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top