The news is by your side.

Advertisement

ایف بی آر کی پیراڈائز لیکس میں نامزد افراد کی معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک سے مدد طلب

اسلام آباد : پانامہ کے بعد پیراڈائز لیکس میں نامز د افراد کی معلومات اکھٹا کرنا شروع کردیں، ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک سے مدد طلب کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے پیرزاڈائز لیکس میں نامزد افراد کی معلومات معلومات اکھٹا کرنا شروع کردیں ہے ، جس کے لئے ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک پیراڈائز لیکس میں شامل افراد کے اکاؤنٹس کے بارے میں متعلقہ بینکوں سے معلومات حاصل کرکے دے۔

ان افراد میں کمرشل بینکوں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک شامل ہیں جبکہ ان افراد سابق وزیر اعظم شوکت عزیز بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل ایس ای سی پی کا پیراڈائزلیکس میں شامل پاکستانیوں کیخلاف ایکشن ایس ای سی پی نےاثاثوں کی چھان بین شروع کردی تھی اور کہا تھا کہ ایس ای سی پی قوانین کے مطابق کارروائی کرے گا۔


مزید پڑھیں : پیراڈائز پیپرز میں نامزد افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ گورنر اسٹیٹ بینک


یاد رہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا تھا پانامہ پپپرز کی طرح پیراڈائز پپیرز میں سامنے آنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ نامزد افراد کی تفصیلات بینکوں سے حاصل کی جائیں گی، بینک اس بات کی چھان بین کریں گے کہ یہ رقم غیر ملکی اکاؤنٹس میں منتقل کیسے کی گئی تھی۔ یہ سرمایہ کاری کیسے عمل میں آئی اس کے بارے میں بھی تحقیقات کریں گے۔

واضح رہے کہ  آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کام کرنے والی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے نے پیراڈائز لیکس کی دستاویزات جاری کی تھیں، جس میں ایک سو پینتیس پاکستانیوں کے نام سامنے آئے تھے۔

مذکورہ دستاویز میں پہلا نام ٹیکس چوری کرکے آف شور کمپنی بنانے والے شوکت عزیزکا ہے، این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کا نام بھی شامل تھا۔


مزید پڑھیں : پیراڈائز لیکس: سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی ٹیکس چور نکلے


پیراڈائز پیپرز کے مطابق شوکت عزیز نے وزارت داخلہ کے دور میں انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا تھا، ٹرسٹ کی بینیفشری شوکت عزیز کی اہلیہ بچے اور پوتی ہیں

پیپرز کے مطابق ایاز خان نیازی کی ایک کمپنی ٹرسٹ اینڈ لشین ڈسکریشنری کےنام سے ہے جبکہ باقی تین کمپنیاں انڈلشین، اسٹیبشلمنٹ لمیٹڈ، انڈلشین انٹرپرائز لمیٹڈ اور انڈلشین ہولڈنگز لمیٹڈ کے نام سے ہیں، تینوں کمپنیاں دو ہزار دس میں قائم کی گئیں،ایاز خان کے دو بھائی اور والد کے نام بطور ڈائریکٹر پیراڈائز پیپرز میں شامل ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں