The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیراعظم ہاؤس میں‌لاک ڈاؤن کے دوران کیا ہوا؟ تہلکہ خیز انکشافات

برطانیہ میں کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیاں کی جاتی رہیں جس میں شراب کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا۔

کورونا وبا سے بدترین متاثرہ ممالک میں برطانیہ کا بھی شمار ہوتا ہے جہاں ہزاروں افراد اس وبا کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، کورونا سے بچاؤ کے لیے برطانیہ میں کئی بار لاک ڈاؤن کیا گیا اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن حال ہی جاری رپورٹ میں یہ تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ جس وقت برطانوی عوام لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں مقید تھے اسی دوران برطانوی وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیوں کا تواتر سے انعقاد کیا جاتا رہا۔

سیوگرے کی جاری کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیاں کی جاتی رہیں۔

رپورٹ میں پارٹیوں کے انعقاد کو حکومتی قیادت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں ٹین ڈاؤننگ اور کیبنٹ آفس میں قیادت کی ناکامی واضح ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان پارٹیوں میں شراب کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا جب کہ شہزادہ فلپ کی آخری رسومات سے قبل بھی پارٹی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں سے جس رویے کی توقی کی جاتی ہے یہاں اس میں ناکامی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد برطانیہ میں سیاسی بھونچال آگیا ہے۔

پارٹی گیٹ اسکینڈل پر اپوزیشن نے برطانوی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے تو پولیس نے بھی لاک ڈاؤن میں پارٹیوں میں قوانین کیخلاف ورزی پرتحقیقات پرغورشروع کردیا ہے۔

ادھر برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بورس جانس سیوگرے رپورٹ پرجلد بیان جاری کریں گے۔

واضح رہے کہ کورونا ایس اوپیز اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس سے قبل بھی خبروں میں رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں