ن لیگی وزرا کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، کارروائیوں میں وہی رکاوٹ ہیں Musharref
The news is by your side.

Advertisement

لشکر طیبہ سے پابندی ہٹائی جائے، میں‌ ہوتا تو پابندی لگنے ہی نہیں‌ دیتا، مشرف، انٹرویو

اسلام آباد: سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسعود اظہر دہشت گرد ہے لیکن لشکر طیبہ ایسی نہیں، اس پر عائد پابندی ختم کی جائے، میں ہوتا تو اس پر پابندی لگنے ہی نہیں دیتا،حکمران جماعت کے چند وزرا کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، جنوبی پنجاب میں کارروائیوں کے خلاف وہی وزرا رکاوٹ ہیں،افغان اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں مل کر پاکستان میں کارروائیاں کرتی ہیں، پاناما کیس کا فیصلہ شریف فیملی کے حق میں بھی آیا تو قوم قبول نہیں کرے گی۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پرگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے ٹیلی فونک بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

دہشت گردی میں بھارت و دیگر ممالک ملوث ہیں

سابق آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں بھارت سمیت دیگر ممالک ملوث ہیں، بھارتی افسران کی سوچ ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کریں اور بھارتی فوج کے سابق افسران ایسے واقعات کا اعتراف کرچکے ہیں۔

آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئیں، آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے گڑھ کو تباہ کیا، طالبان اور القاعدہ کے اہم گڑھ کو نشانہ بنایا گیا اور تباہ کیا گیا۔

حکمران جماعت کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں وہی رکاوٹ ہیں

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے ساتھ تصاویر کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکمران پارٹی کے بہت سے وزیر کالعدم تنظیموں سے رابطوں میں ہیں، جنوبی پنجاب میں کارروائی کرنے میں حکمران پارٹی کے کچھ وزیر رکاوٹ ہیں ہمیں ملک کے بارے میں سوچتے ہوئے دہشت گردوں کو ختم کرنا ہوگا،کچھ لوگ ہیں جو فرقہ وارانہ ذہن رکھتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

افغان انٹیلی جنس بھارتی انٹیلی کے ساتھ مل کر کارروائیاں کررہی ہے

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں پڑوسی ملک سے ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے،افغان انٹیلی بھارتی انٹیلی جنس کے نظریات کو پروموٹ کرتی ہے،افغان انٹیلی بھارتی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کرکارروائیاں کررہی ہے،افغانستان میں پاک فوج کی کارروائی بالکل درست اقدام تھا دہشت گردی بند نہیں ہوگی تو پاک فوج کو کارروائی کرنی چاہیے۔

جنرل(ر) مشرف نے کہا کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی، ہم پر الزام لگتا رہا کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں ہم نے تاثر کو غلط ثابت کیا اور آپریشن ضرب عضب اس کی مثال ہے۔

ڈرون حملوں کے ذریعے سیاسی طور پر پاکستان کی ناکامی ہوئی

سابق صدر نے کہا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے سیاسی طور پر پاکستان کی ناکامی ہوئی،ڈرون حملوں کے ذریعے فوجی سطح پر پاکستان کا فائدہ ہوا

کچھ لوگ مدارس کا غلط استعمال کررہے ہیں، مولانا عبدالعزیز داعش کے حامی ہیں، انہیں پکڑا جائے

انہوں نے کہا کہ میرے دور میں بھارتی مداخلت کے ڈاکیو مینٹری ثبوت موجود تھے، افغانستان اور پاکستان میں موجود دہشت گرد خود کو داعشی کہتے ہیں، مولانا عبدالعزیز دندناتے پھر رہے ہیں، داعش کی حمایت میں باتیں کررہے ہیں مولانا عبدالعزیز کو 200 فیصد پکڑنا چاہیے،اس میں کوئی شک نہیں،جارحانہ قسم کے بیانات کو روکنے کیلئے کام کرنا ہوگا، کچھ لوگ مدارس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔

آزادی کی جنگ کشمیریوں کا حق ہے

کشمیر میں جاری تحریک آزادی پر انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، حق خود ارادیت مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کا حق ہے۔

بھارتی جنرل اور مودی کو وارننگ دی جائے کہ ہم بھی کچھ کرسکتے ہیں

بھارتی جنرل کے بیان پر انہوں نے کہا کہ بھارتی جنرل انٹرویوز میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرو، بھارتی جنرل پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کی باتیں کررہا ہے، مودی اور بھارتی فوج کو وارننگ دی جائے کہ ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

مجھ پر حملہ مسعود اظہر نے کرایا، جماعت الدعوۃ بہترین فلاحی تنظیم ہے

انہوں نے کہا کہ مولانا مسعود اظہر نے پاکستان میں دہشت گردی کی، مجھ پر حملہ ہوا کئی لوگ شہید ہوئے یہ حملہ مسعود اظہر نے کرایا، اس دور میں حملوں اور بم دھماکوں میں یہی لوگ ملوث تھے اس لیے میں ان کے خلاف ہوں تاہم لشکر طیبہ ایسی کوئی چیز نہیں کررہی، وہ سیلاب زدگان کی مدد سمیت دیگر امدادی کام کررہی ہے، جماعت الدعوۃ اور ان کے لوگ بہترین فلاحی افراد ہیں۔

میں ہوتا تو لشکر طیبہ پر پابندی لگنے ہی نہیں دیتا، پابندی ختم کی جائے

ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ پر سے پابندی ختم کردینی چاہیے میں اگر ہوتا تو کوشش کرتا کہ اس پر پابندی عائد ہی نہ ہو، اپنے دور سال 2002ء میں ان جماعتوں کو واچ لسٹ میں ڈالا تھا تاہم پابندی عائد نہیں کی تھی ،ان پر پابندی بعد میں اقوام متحدہ نے عائد کی۔

پاناما کیس کا فیصلہ شریف فیملی کے حق میں آیا تب بھی قوم قبول نہیں کرے گی

وسیم بادامی کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے پر کیے گئے سوال کے جواب میں جنرل(ر) مشرف کا کہنا تھا کہ لگ رہا ہے کہ ہفتہ 10 دن میں پاناما لیکس کا فیصلہ آجائے گا،اس کیس کا فیصلہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا، پاناما لیکس کا فیصلہ شریف فیملی کے حق میں گیا تو قوم قبول نہیں کرے گی، فیصلہ ان کے حق میں بھی جانا شریف فیملی کی ہار ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں