The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

ریاض: سعودی عرب میں نجی اداروں کے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 3 ہزار ریال سے بڑھا کر 4 ہزار ریال کردی گئی۔ یہ اقدام وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں نجی اداروں نے اتوار 18 اپریل 2021 سے نطاقات پروگرام کے تحت سعودی ملازمین کی تنخواہ 3 ہزار ریال سے بڑھا کر 4 ہزار ریال کردی ہے۔

یہ وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود احمد الراجحی کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا ہے، وزارت افرادی قوت نے سعودی عرب کے نجی اداروں کی درجہ بندی کے لیے نطاقات پروگرام متعارف کروایا تھا۔

درجہ بندی متعلقہ ادارے میں سعودی ملازمین کی تعداد، تنخواہوں کے تناسب اور غیر ملکیوں کے مقابلے میں سعودی ملازمین کی تعداد کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کی شروعات 26 نومبر 2014 کو کی گئی تھی۔

وزارت افرادی قوت نے نیا فیصلہ یہ کیا ہے کہ نطاقات پروگرام میں سعودائزیشن کا تناسب جانچنے کے لیے یہ پہلو دیکھا جائے گا کہ سعودی ملازم کی تنخواہ 4 ہزار ریال سے کم نہ ہو۔

وزارت کا کہنا ہے کہ صرف ایسے سعودی ملازم کو نجی ادارے میں نطاقات پروگرام میں شامل کیا جائے گا جس کی کم سے کم تنخواہ 4 ہزار ریال ہوگی۔ اگر تنخواہ اس سے کم ہوئی تو اسے نطاقات پروگرام سے خارج کردیا جائے گا۔

یہ فیصلہ نجی اداروں کے تمام سعودی کارکنان اور سوشل انشورنس میں شامل تمام ملازمین پر لاگو ہوگا۔

وزارت افرادی قوت نے مزید کہا کہ اگر کسی نجی ادارے میں کسی سعودی ملازم کی تنخواہ 3 ہزار ریال کے لگ بھگ ہوگی تو اسے نطاقات پروگرام کے تحت نصف سعودی ملازم قرار دیا جائے گا۔

وزارت افرادی قوت نے توجہ دلائی کہ جز وقتی سعودی ملازم کو نطاقات پروگرام کے تحت نصف سعودی کارکن کے برابر مانا جائے گا بشرطیکہ نجی ادارہ سوشل انشورنس کا زر اشتراک جمع کروا رہا ہو اور جز وقتی ملازم کی کم سے کم تنخواہ تین ہزار ریال ہو۔

وزارت کا کہنا ہے کہ لچکدار اوقات کار کے ساتھ کام کرنے والے سعودی کو نطاقات پروگرام کے تحت ایک تہائی کارکن کے برابر مانا جائے گا بشرطیکہ وہ 168 ڈیوٹی اوقات پورے کرلے اور سوشل انشورنس کا زر اشتراک جمع کروانا بھی ضروری ہوگا۔

لچکدار اوقات کار پروگرام میں سعودی عرب کے وہ طلبہ شامل ہوں گے جو جز وقتی ڈیوٹی پابندی سے دے رہے ہوں، علاوہ ازیں لچکدار نظام کار کے مطابق عام سعودی کارکن بھی شامل ہوں گے جو جز وقتی ڈیوٹی پابندی سے کرتے ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں