The news is by your side.

Advertisement

پی ڈی ایم اجلاس، الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی تجویز مسترد، پی پی، اے این پی پر فیصلہ برقرار

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز مسترد کر دی، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے متعلق فیصلے پر قائم رہنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا۔

تفصییلات کے مطابق آج اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں سمیت پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی حکومتی تجویز مسترد کر دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں رہنماؤں نے کہا کہ ابھی ڈٹ کر مقابلہ نہ کیا تو مستقبل میں شفاف الیکشن مشکل ہوگا، مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین پری پول دھاندلی کا منصوبہ ہے، حکومت کے یک طرفہ انتخابی اصلاحات آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں۔

ادھر ذرائع نے کہا ہے کہ اجلاس میں پی ڈی ایم سربراہان پیپلز پارٹی اور اے این پی سے متعلق فیصلے پر قائم رہے، اپوزیشن اتحاد کی بیٹھک میں کوئی بریک تھرو نہ ہو سکا، پی پی، اے این پی سے متعلق فیصلہ برقرار رہا، خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے پی پی، اے این پی سے سینیٹ الیکشن سے متعلق وضاحت مانگی تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مہلت ہے وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔

مولانا کا کہنا تھا کہ پی پی، اے این پی ہمارے ساتھ نہیں ہیں اس لیے اجلاس میں ان سے متعلق غور و غوض نہیں کیا، پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم رہنماؤں نے اس سلسلے میں مزید گفتگو سے انکار کر دیا، مریم نواز نے کہا پیپلز پارٹی اور اے این پی کے بارے میں جو کہنا تھا کہہ دیا، یہ نان ایشو ہے ہمیں اس پر مزید نہ گھسیٹا جائے۔

اجلاس میں پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف نئی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا، فضل الرحمان نے کہا پی ڈی ایم نے بڑے احتجاجی جلسوں کا پروگرام بنا لیا ہے، 4 جولائی کو سوات میں بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، 29 جولائی کو کراچی میں بہت بڑا جلسہ کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کے صدر کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو یوم آزادی منائیں گے، اور اسلام آباد میں بڑا مظاہرہ ہوگا، جس میں کشمیر اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے موضوعات پر بات ہوگی۔

ملکی اور خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پی ڈی ایم صدر نے مطالبہ کیا کہ افغانستان اور خطے کی صورت حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اور دفاعی صورت حال پر ان کیمرہ اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا جائے، افواہیں ہیں کہ پاکستان امریکی طیاروں کو ایئر بیس مہیا کرے گا۔

انھوں نے سوال کیا کہ پاکستان کیا ممکنہ مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے؟ بہت ضروری ہے تو حکومت ان کیمرہ اجلاس میں اعتماد میں لے۔ انھوں نے صحافی برادری پر حملوں کی بھی مذمت کی، اور کہا پی ڈی ایم صحافی برادری پر حملوں کی مذمت کرتا ہے، اور ان کے ساتھ ظہار ہمدردی کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں