یمنی حکومت اور حوثی باغیوں درمیان امن مذاکرات کامیاب houthis
The news is by your side.

Advertisement

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان امن مذاکرات کامیاب

اسٹاک ہوم : یمن میں برسرپیکار حوثیوں اور یمن کی آئینی حکومت کے درمیان سویڈن میں ہونے والے امن مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے دونوں فریقین نے  تین نکات پر اتفاق رائے کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے یمن مارٹن گریتھس کی سربراہی میں یمنی حکومت کا ایک وفد 5 دسمبر کو سویڈن پہنچا تھا جبکہ حوثی ملئشیا کا وفد پہلے ہی یمن میں موجود تھا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران جن نکات پر دونوں فریقوں نے اتفاق رائے کیا ہے ان میں پہلا نقطہ صنعاء ایئرپورٹ کو عدن اور سیئون سے کنٹرول کیا جائے گا، دوسرا نقطہ قیدیوں کا باہمی تبادلہ جبکہ تیسرا نقطہ معیشت اور سینٹرل بینک کی صورتحال کو بہتر کرنا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذکورہ تین موضوعات کے سوا حوثیوں اور یمنی حکومت کے وفد میں دو نکات پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا پہلا الحدیدہ بندرگاہ کا کنٹرول ہے۔

خیال رہے کہ یمنی حکومت کا وفد 4 دسمبر کو اقوام متحدہ کے سفیر کے ہمراہ سویڈن روانہ ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے سیاسی معاملات، الحدیدہ بندر گاہ، صنعاء ایئرپورٹ اور معاشی معاملات پر مذاکرات کا ٹرف اایف ریفرنس پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب یمن جنگ کا سیاسی حل مذاکرات سے چاہتا ہے، خالد بن سلمان

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین ایئرپورٹ کے معاملے پر کچھ کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں تاہم حکومتی عہدیدار نے بتایا تھا کہ حوثیوں نے انددرون ملک پروازیں شروع کرنے کے لیے حکومتی رائے مانگی تھی۔

خیال رہے کہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان سنہ 2016 کے بعد سے یہ پہلے امن مذاکرات ہیں جس کے بعد تین نکات پر اتفاق رائے کیا گیا ہے اگر کسی بھی فریق کی جانب سے کوتاہی یا لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا تو امن مذاکرات تعطلی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن پر حکومت کی جنگ کے دونوں فریقین کے مابین ہونے والے امن مذاکرات آسان نہیں تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں