The news is by your side.

Advertisement

مجھ پر چھ مقدمات تھے، 15 بارعدالتوں میں پیش ہوا، پرویز مشرف کا خصوصی انٹرویو

دبئی : سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میں سویلین حکومت کے خلاف نہیں ہوں اور ہمیشہ ملک کی ترقی اورخوشحالی کی بات کرتا ہوں۔

سابق صدر پرویز مشرف اے آر وائی نیوز کے معروف پروگرام الیونتھ میں میزبان وسیم بادامی کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے اس موقع پر سابق آرمی چیف اور سابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مارشل لا نہیں لگنے چاہئیں بلکہ جمہوری کا سائیکل جاری رہنا چاہیئے۔

میزبان وسیم بادامی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو ہٹانا مناسب نہیں بلکہ جمہوری عمل چلتا رہے اور صرف الیکشن کے ذریعے حکومت کی تبدیلی بہترین طریق ہے اسے جاری رہنا چاہیئے۔

اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا تھا کہ نوازشریف نے خود فوج سے ٹکرلی تھی اور ان حکومت کے خاتمے کے پیچھے ان کا اپنا رویہ تھا۔

پرویز مشرف جو آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ بھی ہیں نے مذید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 58 ٹوبی کے تحت حکومتوں کا خاتمہ درست تھا اس طرح پارلیمنٹ صدر کے سامنے جوابدہ اور کسی بھی غیر آئینی کام کرتے وقت خوف زدہ رہتی تھیں۔

پاکستان واپسی اور مقدمات کا سامنے کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں پاکستان آیا تھا باوجود اس کے کہ مجھ پر 6 مقدمات بنائے گئے تھے اور میں ان مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے 15 بارعدالتوں میں پیش ہوا تھا تو کیا یہ احتساب نہیں تھا؟

پرویز مشرف نے کہا کہ مجھے عدالت نے علاج کے غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور اس کا قانونی اور آئینی جواز بھی موجود تھا جسے خود اٹارنی جنرل نے ایڈمٹ کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باہر جانے کی اجازت دی تھی میں اس وقت بھی امریکا میں اپنا علاج کرا رہا ہوں اس لیے وہاں آنا جانا بھی رہتا ہے اسپائنل فریکچر ہے کسی کو شک ہے تو ایم آرآئی رپورٹ دیکھ لے۔

وطن واپسی کے حوالے سے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی گارنٹی ملے تو فوراً واپس آ جاؤں گا مجھے عدالتوں پر بھروسہ ہے اور پہلے بھی 6 مقدمات میں 15 بارعدالتوں میں پیش ہوا ہوں اور پوری امید ہے کہ اب پاکستان میں عام انتخابات وقت پرہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اچھی شہرت کے حامل ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ان کی مداح بھی ہے چنانچہ اگر عوام چاہتے ہیں تو ایک متبہ عمران خان کو بھی موقع ملنا چاہیئے تاہم پاکستان پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی ضرور ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس جماعت میں غیریقینی کیفیت ہے۔

ریٹائرڈ جنرل پرویزمشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی انتخابات شفاف نہیں ہوئے ہیں اور انتخابات میں دھاندلی کے لیے حکومتی مشینری کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے جس کے لیے الیکشن دھاندلی میں تھانیداراورپولیس بھی استعمال کی جاتی رہی ہے جسے اب ختم ہوجانا چاہیئے۔

میزبان وسیم بادامی کے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ نوازشریف کوجدہ بھیجنے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا جتنا آپ سمجھ رہے ہیں، دنیا میں بڑے فیصلے بہت دیکھ بھال کرکرنا پڑتے ہیں چونکہ سعودی عرب نے نوازشریف کو بھیجنے کی درخواست کی تھی اس لیے یہ قدم اٹھایا کیوں کہ بڑے معاملات میں عالمی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے استقبال کے لیے حکومتی مشینری استعمال کی جا رہی ہے اور نوازشریف کے استقبال کے لیے لوگوں کو اکھٹے کرنے کا انتظامیہ کو ٹاسک دیا گیا جس کے لیے بے دریغ پیسا اور مشینری فراہم کی جا رہی ہے تا کہ دکھایا جائے کہ عوام کی کثیر تعداد موجود ہے۔

عائشہ گلا لئی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ کیا بات حقیقت ہے تاہم یہ بھی ہے کہ چار سال تک یہ معاملہ چلتا رہا ہے اور اب اچانک معاملہ اُٹھا ہے اسی طرح یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے آڑے ان کی اسی قسم کی چیزیں آتی رہتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں