مذہبی جماعتوں سے اتحاد روشن خیال ایجنڈے سے متصادم نہیں: پرویز مشرف -
The news is by your side.

Advertisement

مذہبی جماعتوں سے اتحاد روشن خیال ایجنڈے سے متصادم نہیں: پرویز مشرف

کراچی: مذہبی جماعتوں سے اتحاد میرے روشن خیالی کے ایجنڈے سے متصادم نہیں، اس اتحاد کا مشترکہ مقصد پاکستان کی ترقی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدر پرویز مشرف نے اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں‌ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

حدیبیہ کیس سے متعلق پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ انھیں کیس بند ہونے پر مایوسی ہوئی، ساری منی لانڈرنگ حدیبیہ پیپر ملز کے ذریعے ہوئی تھی، مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ناانصافی نہیں‌ کی، البتہ وہ خود دوسروں سے ناانصافی کرتے آئے ہیں. وہ فوج سمیت ہر ادارے سے تصادم کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں اور اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔

عمران خان کے حق میں‌ آنے والے فیصلے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ خلاف بھی آتا، تو عمران خان کے مداحوں‌ کو کوئی فرق نہیں‌ پڑتا۔ وہ ان کے جلسے میں اسی طرح‌ آتے۔

جہانگیر ترین سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر انھوں‌ نے عدالت سے غلط بیانی کی، تو یہ غیرمناسب تھا. انھوں‌ نے میرے ساتھ کام کیا، وہ بہت اچھے وزیر تھے۔

انھوں‌ نے کہا کہ ان کے خلاف بنائے جانے والے کیسز سیاسی تھے، وہ پہلے بھی عدالتوں‌ میں‌ گئے، دوبارہ آ کر کیسز کا سامنا کریں‌ گے، مگر واپسی کا فیصلہ حالات دیکھ کر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کی زیر قیادت نیا سیاسی اتحاد تشکیل

ایک سوال کے جواب میں‌ انھوں‌ نے کہا کہ معاہدے کےتحت نوازشریف کو دس سال کے لیے جانے دیا۔ انھوں‌ نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے ان پر ن لیگ کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے والی ہے، درخواست دینے کے باوجود حکومت نے نیا پاسپورٹ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے وطن واپس آنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں