The news is by your side.

Advertisement

مولانا فضل الرحمان بڑی مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد : پاک فوج کےخلاف تقریر پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی گئی
درخواست میں استدعا کی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی تقاریر اور ان کی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاک فوج کے خلاف تقریر پر جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی، درخواست ایک شہری شاہجہان خان نے جمع کرائی ۔

درخواست میں مولانا فضل الرحمان، وفاق، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا اور وفاق کو بذریعہ وزیراعظم عمران خان فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ وزیراعظم آفس سے پوچھا جائے کہ انہوں نے ابھی تک مولانا فضل الرحمان کی تقاریر پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ اور استدعا کی گئی کہ مولانا فضل الرحمان کی تقاریر اور ان کی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی جائے۔

مزید پڑھیں : مولانا فضل الرحمان کا دھرنا: عدالت نے فیصلہ سنا دیا

یاد رہے جے یو آئی ف کے سربراہ کے دھرنے اور آزادی مارچ کو روکنے لیے عدالت میں درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، جن پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 4 صفحات پر مشتمل آرڈر جاری کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا قانون پر عمل کرنے والوں کو پرامن احتجاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا، عوامی نظم و ضبط قائم رکھنا ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہے، احتجاج کا حق واقعی ہے لیکن کچھ پابندیاں ہو سکتی ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دھرنے اور آزادی مارچ کے سلسلے میں پابندیاں لگاتے وقت خیال رکھیں، ریاست امن برقرار کے لیے، احتجاج کرنے کے مقام اور روٹ کی پابندی لگا سکتی ہے۔

واضح رہے جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں