The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا: پیٹرول کی قیمت میں 137 فیصد اضافہ

کولمبو: معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں پیٹرول کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کردیا گیا، پچھلے 6 ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں 230 فیصد اور پیٹرول کے نرخ میں 137 فیصد سے زائد اضافہ کیا جا چکا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق معاشی بحران سے دو چار ملک سری لنکا میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا ہے، ملک کو پہلے ہی خوراک کی قلت کا سامنا ہے جبکہ حکومت کے خلاف شدید احتجاج بھی چل رہا ہے جس کی وجہ سے اب تک کم از کم 9 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

سری لنکا کے وزیر توانائی کنچنا وجیسکیرا کا کہنا ہے کہ کابینہ نے تیل کی قیمتوں میں اس لیے اضافے کی منظوری دی ہے تاکہ ریاست کے زیر انتظام پیٹرولیم کارپوریشن میں بھاری نقصانات کو روکا جا سکے۔

ملک میں ڈیزل کی قیمت 289 سے بڑھا کر 400 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت کو 338 سے بڑھا کر 420 روپے کر دیا گیا ہے۔

پچھلے 6 ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں 230 فیصد اور پیٹرول کے نرخ میں 137 فیصد سے زائد اضافہ کیا جا چکا ہے، قیمتیں بڑھنے کے باوجود ملک میں تیل کی کمی ہے اور اکثر اوقات تیل بھروانے کے لیے قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ 2 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی کے ملک کو تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا ہے۔ زرمبادلہ کی کمی کے باعث خوراک اور ادویات کی بھی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ عوام کو بجلی کی طویل بندش اور مہنگائی کا بھی سامنا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث بسوں اور ٹیکسیوں کے کرائے میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

وجیسیکیرا کے مطابق حکومت بھارت سے 500 ملین کا قرضہ لینے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ایندھن خریدا جائے گا جبکہ 700 ملین کی رقم پہلے ہی بھارت فراہم کر چکا ہے۔

مردم شماری دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے ماہ ملک میں مہنگائی 33.8 فیصد تھی جبکہ اشیائے خور و نوش کے مہنگے ہونے کی شرح 45.1 فیصد تھی۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی سے وابستہ معاشیات دان سٹیو ہینک کا کہنا ہے حقیقت میں سری لنکا میں مہنگائی اس سے بھی زیادہ ہے، جو حکومت کی طرف سے بتائی جا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں