The news is by your side.

Advertisement

خام تیل کی قیمت میں کمی: مختلف ممالک اپنے تیل کے ذخائر میں اضافہ کرنے لگے

بیجنگ / واشنگٹن: کرونا وائرس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ایشیائی ممالک اپنے تیل کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق چین ایشیا پیسفک میں سب سے زیادہ تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا فائدہ اٹھا کر اپنے خام تیل کے اسٹاک کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایشیائی ممالک کی تیل کی سپلائی اور اسٹریٹجک ریزروز (محفوظ ذخائر) کے حوالے سے تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔ اسٹریٹجک ریزرو، تیل یا دوسرے ایندھن کے وہ ذخائر ہوتے ہیں جنہیں حکومتیں اسٹوریج کی محفوظ سہولیات میں ذخیرہ کرتی ہیں تاکہ توانائی کی ترسیلات کی غیر متوقع بندش کی صورت میں انہیں استعمال کیا جا سکے۔

فراسٹ اینڈ سولیون نامی کنسلٹنسی فرم میں انرجی اور انوائرمنٹ کے ریجنل نائب صدر راوی کرشنا سوامی کے مطابق بڑی معیشتیں جیسے کہ امریکا، روس اور چین نے 1970 کی دہائی میں تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان ممالک کی جانب سے تیل ذخیرہ کرنے کی شروعات کی وجہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ اور ایران کا انقلاب بنے۔

چین کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے پاس ایشیا پیسفک میں تیل ذخیرہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔ گو کہ بیجنگ اپنی صلاحیت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق چین 550 ملین بیرل تیل اسٹور کر سکتا ہے۔

حال ہی میں چین کے سرکاری ادارے چائنہ نیشنل پٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ ملک کے تیل کے محفوظ ذخائر ناکافی ہیں اور یہ ابھی تک 90 دن کے لیے کافی عالمی معیار تک نہیں پہنچے۔

اس کے مقابلے میں امریکا کی اسٹریٹجک ریزروز 630 ملین بیرل کے قریب ہیں۔

انٹرنیشل انرجی ایجنسی کے ارکان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے 90 دن کی درآمدی ضروریات کے برابر تیل اسٹاک میں رکھیں، تاہم چین ایجنسی کا مکمل نہیں بلکہ ایسوسی ایٹ رکن ہے۔

جاپان کے تیل کے ذخائر تقریباً 500 ملین بیرل کے قریب ہیں جو کہ 7 مہینے کے لیے کافی ہے۔

دسمبر 2019 میں جنوبی کوریا کے تیل کے اسٹریٹجک ریزروز 96 ملین بیرل تھے جو کہ 89 دنوں کے لیے ملکی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔

اس کے مقابلے میں بھارت کے تیل کے اسٹریٹجک ریزروز 40 ملین بیرل ہیں جو ملک کی صرف دس دن کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔

اسٹریٹجک ریزروز عموماً زیر زمین غاروں میں ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز گلف کوسٹ کے ساتھ زیر زمین نمک کے غاروں میں ذخیرہ کیے جاتے ہیں، لیکن تیل ذخیرہ کرنے کے لیے زیر زمین غاروں کی تعمیر ایک چیلنجنگ کام ہے کیونکہ اس کے لیے صیحح ارضیاتی تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان غاروں کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات اتنے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بہت سے ممالک اپنی ضرورت کے لیے کافی سہولیات تعمیر نہیں کر سکے ہیں۔

ایشیا میں تیل ذخیرہ کرنے کے لیے بھارت زیر زمین غاریں استعمال کرتا ہے تاہم جاپان اس مقصد کے لیے زمین کے اوپر رکھے ٹینک استعمال کرتا ہے۔

آسٹریلیا جو کہ کبھی ترقی یافتہ ممالک میں سب سے کم تیل ذخیرہ کرنے والا ملک تھا، کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھا کر امریکا میں تیل ذخیرہ کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ آسٹریلیا کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش پہلے ہی پوری ہوچکی ہے۔

آسٹریلیا کا امریکا کے ساتھ معاہدہ ہے جس کے تحت وہ اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز میں جگہ لیز پر لے سکتا ہے۔

چین میں گزشتہ ماہ شنگھائی انرجی ایکسچینج نے سرکاری سنو پگ پیٹرولیم ریزروز کو تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی اجازت دی تھی۔

بھارت کی توانائی کی وزارت نے 15 اپریل کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ اپنے ذخائر کو مکمل گنجائش تک بھرنے کے لیے خام تیل خرید رہا ہے لیکن بھارت کے پیٹرو واچ کے ایڈیٹر مادھو نیان نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے بھی یا نہیں؟ ان کے مطابق بھارت میں اسٹوریج ٹینک، پائپ لائن اور ڈیلرز کے ٹینک بھی بھرے ہوئے ہیں۔

جاپان کی وزارت تجارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایندھن کے موجودہ ذخائر کافی ہیں جبکہ جنوبی کوریا رواں سال اپنے ذخائر میں 1 فیصد بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں