پاکستان سے لندن جانےوالی آزمائشی پرواز کے حادثے کو53 برس بیت گئے -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان سے لندن جانےوالی آزمائشی پرواز کے حادثے کو53 برس بیت گئے

کراچی: پاکستان کی قومی ایئر لائن کی لندن جانے والی پرواز کو حادثے میں تباہ ہوئے 53 برس بیت گئے، حادثے کا شکار ہونے والی پرواز میں 114 مسافر وں سمیت کل 127 افراد موجود تھے، حادثے میں چھ خوش قسمت افراد زندہ بچ گئے۔

تفصیلات کےمطابق 19 اور 20 مئی 1965ءکی درمیانی شب پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز کا ایک بوئنگ 720 جیٹ طیارہ کراچی سے دہران ( سعودی عرب)‘ قاہرہ (مصر) اور جنیوا(سوئٹزلینڈ) کے راستے لندن کی افتتاحی پرواز پر روانہ ہوا۔ اس پرواز میں 114 مسافر اور عملے کے 14 ارکان سوار تھے جن میں پاکستان کے صف اول کے 22صحافی اور سیاحت اور ٹریولنگ کی صنعت سے متعلقہ اہم افراد شامل تھے۔

رات تقریباً پونے تین بجے جب یہ طیارہ قاہرہ کے ایرپورٹ پر اترنے کی تیاری کررہا تھا کہ اس کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور یہ بدنصیب طیارہ اچانک آگ لگنے کی وجہ سے تباہ ہوگیا۔

اس حادثے میں 121 افراد ہلاک ہوئے اور صرف چھ افراد (جلال کریمی‘ عارف رضا‘ ظہور الحق‘ صلاح الدین صدیقی‘ شوکت مکلائی اور امان اللہ خان) زندہ بچ سکے۔ ہلاک شدگان میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین میجر جنرل حیاءالدین‘ اے پی پی کے اے کے قریشی‘ روزنامہ جنگ کے ناصر محمود‘ روزنامہ حریت کے جعفر منصور‘ روزنامہ امروز کے حمید ہاشمی‘ روزنامہ مشرق کے ابو صالح اصلاحی‘ بزنس ریکارڈر کے ایم بی خالد‘ ڈان کے صغیر الدین احمد‘ مارننگ نیوز کے سبط فاروق فریدی‘ لیڈر کے علیم اللہ‘ فلائیر کے ممتاز طارق‘ نوائے وقت کے عرفان چغتائی اور پی پی اے کے شاہ ممتاز سمیت ملک کے 22 صحافی شامل تھے۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی اجتماعی قبر پر تعمیر کردہ یادگار

اس حادثے میں بد نصیب طیارے کے عملے کے جو افراد ہلاک ہوئے ان میں طیارے کا پائلٹ اے اے خان‘ نیوی گیشن افسر خالد لودھی‘ ایر ہوسٹس پنتھکی اور مومی گل درانی‘ فلائٹ اسٹیورڈ اے جی علوی اور فلائٹ پرسر مسعود خان شامل تھے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اس بری طرح جھلس گئی تھیں کہ 17 افراد کے علاوہ کسی کی لاش کو شناخت نہ کیا جاسکا۔ ان لاشوں کو قاہرہ کے ایک خصوصی قبرستان میں اجتماعی طور پر دفن کردیا گیا جہاں بعد ازاں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔پی آئی اے کے طیارے کے اس المناک حادثے سے ملک بھرمیں صف ماتم بچھ گئی تھی۔

بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ طیارہ جو کہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور محض تین سال قبل بنا تھا ، لینڈنگ کے وقت اپنی صحیح رفتار برقرار نہیں رکھ سکھا جس کے سبب حادثہ پیش آیا تھا۔

حادثے کے کچھ دن بعد قاہرہ پولیس نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ پر واز کےملبے سے ایک ٹرانسسٹر ریڈیو ملا ہے ، جس میں ایک لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ مالیت کے جواہرات چھپائے گئے تھے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ ریڈیو کس مسافر کا تھا، بلاشبہ یہ قیمتی زیورات اسمگل کرنے کی کوشش تھی جو کہ مسافر کو راس نہیں آئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں