حکومتی تحویل میں موجود اداروں کے نقصانات 1300ارب روپے کی بلند ترین سطح پر
The news is by your side.

Advertisement

حکومتی تحویل میں موجود اداروں کے نقصانات 1300ارب روپے کی بلند ترین سطح پر

کراچی : حکومتی تحویل میں موجود اداروں کی کارکردگی بد سے بد تر ہوگئی اور نقصانات ساڑھے تیرہ سو ارب روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچے۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی تحویل میں موجود اداروں کی بہتری اور تنظیم نو کے دعوے اور معاشی اصلاحات کے اعلانات صرف اعلانات ہی ثابت ہوئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون دو ہزار اٹھارہ کو ختم ہونے والے مالی سال میں ان اداروں کے نقصانات کا حجم تیرہ سو ارب روپے ہوگیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق واجبات کا حجم دو سو اکتیس ارب تیس کروڑ روپے جبکہ قرضے تیس فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزاراڑسٹھ ارب بیس کروڑ روپے ہوگئے۔

گزشتہ مالی سال میں صرف پی آئی اے کے نقصانات میں ایک سو چھیالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، واپڈا کے قرضوں کاحجم ایک سو اکتیس ارب بیس کروڑ روپے ہوگیا ہے، 2013 میں ان اداروں کے مجموعی نقصانات ساڑھے چار سو ارب روپے تھے۔

پانچ سال میں حکومتی تحویل میں اداروں کے نقصانات میں ساڑھے آٹھ سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

نواز لیگ نے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے منصوبے بنائے مگر یہ بھی نہ کر سکے، اب نئی حکومت کیلئے بھی اداروں کے ان نقصانات کو کم کرنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے اصرار کے باوجود حکومت ان اداروں کی نجکاری نہ کر سکی اور نہ ہی ان اداروں کی تنطیم نو میں کامیاب ہوسکی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں