The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے طیارہ حادثہ، اب تک کی سب سے بڑی پیشرفت

پیرس: فرانسیسی ماہرین نے حادثے میں‌ تباہ ہونے والے پی آئی اے کےطیارے کے بلیک باکس سمیت تمام ریکارڈ کو ڈی کوڈ کر کے ڈیٹا پاکستانی تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق  طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی ماہرین نے ایئربس کے بلیک باکس(فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر،کاک پٹ وائس ریکارڈر)کو ڈی کوڈ کرکے تمام  اہم شواہد اور ڈیٹا  پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی کے حوالے کردیا۔

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی اہم شواہد  ساتھ لیکر  فرینکفرٹ سے  سات جون کو پاکستان کے لئے روانہ ہو ں گے ۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثہ، تحقیقات کا دائرہ ایئرٹریفک کنٹرولر تک وسیع

طیارے حادثے کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے سربراہ ان دنوں فرانس میں ایئربس کی ٹیم کے ساتھ طیارہ حادثے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

ایئرکموڈور گزشتہ دنوں ائربس کی ٹیم کے ہمراہ جہاز کے دونوں اہم آلات لے کر فرانس روانہ ہوئے تھے۔

سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر ائر ٹرانسپورٹ نے عثمان غنی کے فضائی سفر کے حوالے سے پی آئی اے کےچیف آپریٹنگ آفیسر کو خط لکھ دیا۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن ( پی آئی اے) کی پرواز  پی کے 8734 کے ذریعے فرینکفرٹ سے 7 جون کو رات ساڑھے دس بجے  اسلام آباد پہنچے گے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق عثمان غنی کی پاکستان واپسی کے حوالے سے ایوی ایشن ڈویژن اور اسلام آباد ایئرپورٹ انتظامیہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ، کپتان کی خلاف ورزیوں پر مبنی رپورٹ تیار

پاکستان واپس پہنچنے کے بعد ایئرکموڈور 22 جون کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے جس میں وہ طیارہ حادثے کے اہم شواہد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کریں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں