تازہ ترین

طویل مدتی قرض پروگرام : آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے...

ملک میں معاشی استحکام کیلئےاصلاحاتی ایجنڈےپرگامزن ہیں، محمد اورنگزیب

واشنگٹن: وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک...

کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنیوالے 3 پولیس افسران سمیت 7 گرفتار

کراچی : پولیس موبائل میں جدید اسلحہ سندھ اسمگل...

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

پی آئی اے کی نجکاری، کیوں اور کیسے؟؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری سے قبل حکومت غیرملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے جیسا قومی اثاثہ جسے ملک کو کما کر دینا چاہیے تھا وہ خود بدترین طور پر مقروض ہے، تاہم اب قومی ایئرلائن کی نجکاری کا معاملہ سامنے آچکا ہے اور 88 ملین ڈالر کے قرضوں کے لیے حکومت کی جانب سے نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔

اس وقت نجکاری سے بھی اوپر ایک معاملہ موجود ہے کیوں کہ نجکاری سے قبل یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ادارے پر جو بھی قرض ہے اسے کلیئر کیا جائے جبکہ یہ قرض بھی کافی زیادہ ہیں۔

سینئررپورٹر صلاح الدین کا اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی آئی اے آپریٹنگ پرافٹ میں کبھی خسارے میں نہیں گئی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اعلان کے مطابق پچھلے سال 2023 میں بھی ادارے نے 11 ارب سے زائد کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ قومی ایئرلائن اس وقت بہت زیادہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور 100 ملین سے زائد کے قرضے واجب الادا ہیں۔

صحافی صلاح الدین نے بتایا کہ اتنے قرضے چڑھنے کی اہم ترین وجوہات میں بدانتظامی شامل ہے جبکہ بھاری معاوضے پر باہر سے لائے گئے افسران کو رکھا گیا کہ وہ پی آئی کو منجدھار سے نکال دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس ادارے میں سیاسی مداخلت بھی بہت زیادہ رہی، اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات پی آئی اے کی تباہی کا باعث بنیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومتی گارنٹی پر پی آئی اے نے 270 ارب روپے کا قرض لیا ہوا ہے۔ یہ قرضے کمرشل بینکوں سے لیے گئے ہیں، نجکاری سے پہلے حکومت کو تمام قرضے ادا کرنے ہونگے کیوں کہ اس کے بغیر نجکاری ممکن نہیں ہوسکے گی۔

سینئر صحافی شعیب نظامی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر نگراں حکوم پہلے ہی بہت ساری رکاوٹیں دور کرکے جاچکی ہے، نئی منتخب حکومت کے لیے ایک بہت اچھا پلیٹ فارم موجود ہے جسے انھوں نے مکمل کرنا ہے۔

امکان ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں بڈنگ کے لیے بولیاں طلب کی جائیں گی، اس سے قبل حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پی آئی اے کے لیے دو کمپنیاں بنائی جائیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ ہورڈنگز کمپنی کے اندر 700 ارب روپے کے آس پاس قرضے پارک کردیے جائیں گے اور پی آئی اے کا ایوی ایشن کے کور فنکشن کی قرضوں اور خسارے سے جان چھوٹ جائے گی اور اس کے بعد اسے پرائیویٹائز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا کی نامور ایئرلائن ایمریٹس کو بنانے والی بھی پی آئی اے ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں کو بھی قومی ایئرلائن نے معاونت فراہم کی تھی۔ تاہم آج بدانتظامی نے پی آئی کو تباہ کردیا ہے۔

Comments

- Advertisement -