The news is by your side.

Advertisement

سستے ڈینٹسٹ کی تلاش لڑکی کو مہنگی پڑگئی

چہرے کی خوبصورتی اور جسمانی صحت میں مضبوط اور چمکدار دانتوں کا اہم کردار ہوتا ہے، خوبصورت اور ہموار دانتوں کے بغیر ہماری مسکراہٹ بھی ادھوری رہتی ہے۔

بچپن سے لے کر پڑھاپے تک کبھی نہ کبھی ہر انسان کو دانتوں کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے سدباب کیلئے کسی مستند ڈینٹسٹ سے علاج کرانا ضروری ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ فٹ پاتھوں پر بیٹھے عطائی ڈاکٹروں سے بھی علاج کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جو بعد میں بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

دانتوں کا کسی بھی قسم کا غلط آپریشن آپ کی صحت کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ طریقہ علاج بہت زیادہ پریشانی اور شرمندگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

کچھ ایسا ہی ایک26سالہ عرب لڑکی ایدہ عزیزی کے ساتھ پیش آیا جو اپنے دانتوں کے بہتر اور سستے علاج کیلئے ایران کے شہر تہران پہنچی جو اس کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا۔

26سالہ ایدا عزیزی نے اپنے 19دانتوں کو تبدیل کرانے کیلئے ڈینٹسٹ کو 550پاؤنڈ ادا کیے، ایڈا کا آپریشن ڈاکٹر کے بجائے اس کے اسسٹنٹ نے کیا کیونکہ ڈینٹسٹ آپریشن ادھورا چھوڑ کر کسی اور کام سے چلا گیا تھا۔

اس ناتجربہ کار اسسٹنٹ نے6گھنٹے کے آپریشن کے بعد ایدا کو مصنوعی دانت لگا دیئے جو دیکھنے میں بےترتیب اور کسی "پیانو کیز” کی طرح لگ رہے تھے۔

ایدا عزیزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیو شیئر کی اور اس تکلیف کے بارے میں بتایا جس پر صارفین نے مختلف تبصرے بھی کیے۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے دانت ایسے رہ گئے تھے جو آپس میں مماثلت نہیں کر رہے تھے اور اس کے لیے منہ کو بند کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

پراجیکٹ مینیجر کے مطابق غلط طریقہ کار نے نہ صرف اس کی مسکراہٹ اور شکل بدل دی بلکہ اس کی آواز بھی بدل چکی تھی جس سے اس شخصیت پر بہت برا اثر پڑرہا تھا۔

ایدا عزیزی نے کہا کہ وہ اس علاج کے بعد بہت پریشان ہوگئی تھی کیونکہ وہ ٹھیک طریقے سے کھانا بھی نہیں کھا سکتی تھی کیونکہ اس کے پچھلے دانت اس کی زبان کی نوک کو نہیں چھو رہے تھے۔

ایڈا نے مزید کہا کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اسے ایران میں ہی ایک اور ڈینٹسٹ مل گیا جو اس کے دانت ٹھیک کرنے میں کامیاب رہا۔ مجھے نہیں لگتا کہ جس سے میں نے پہلے علاج کرایا وہ ڈینٹسٹ تھا بھی یا نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں