The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن میں نرمی خطرناک ہوگی، حکومت اپنی پالیسی کو مزید سخت کرے، ڈاکٹروں کا مشورہ

اسلام آباد : چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹراسفندیار کا کہنا ہے لاک ڈاؤن میں نرمی خطرناک ہوگی، پالیسی پرعمل نہ ہواتوپوری قوم متاثر ہوسکتی ہے ،حکومت اپنی لاک ڈاؤن کی پالیسی کو مزید سخت کرے۔

تفصیلات کے مطابق پمزاسپتال کے ڈاکٹروں نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا غیرسنجیدگی کےمظاہرےسےصورتحال خراب ہورہی ہے، طبی عملہ متاثرہونے لگے توعلاج کرنے والے اور کم ہوجائیں گے۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی لاک ڈاؤن کی پالیسی کو مزید سخت کرے، اس وقت وائرس باہرسےنہیں آرہا،مقامی طور پر منتقل ہورہا ہے، تاجر برادری کو ملک نے بہت کچھ دیا اب تاجروں کے دینے کا وقت ہے۔

چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹر اسفند یار نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ نہیں پروفیشنل لوگ ہیں، رمضان میں سموسوں پکوڑوں کی دکانوں پررش کو روکنا ہوگا، پکوڑے سموسے گھر میں ہی بنا کر کھائیں۔

ڈاکٹراسفندیار کا کہنا تھا کہ مسجدکےبجائےگھرمیں ہی نمازتراویح اداکریں، مسجد میں ایک شخص بہت سے لوگوں کو متاثرکرسکتا ہے، ہمارے ہاں مسجد میں جگہ نہیں کہ فاصلہ برقرار رکھا جائے، علمائے کرام عوام کو گھروں میں تراویح ونماز پڑھنے کی ترغیب دیں۔

چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان نے کہا کہ اسپتال میں موجودہرشخص کوحفاظتی سامان دیاجائے، لاک ڈاؤن سخت نہ ہوا تو حالات ہمارے اور حکومت کے قابو میں نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ ڈاکٹروں کو ایک تنخواہ اضافی دیں گے، اس پیشکش سے اختلاف ہے اضافی مدد وبا کے خاتمے تک دیں اور صرف فرنٹ لائن ہی نہیں بلکہ طبی عملے کے ہرفرد کو اضافی تنخواہ دی جائے۔

ڈاکٹراسفندیار نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سےہی ہم لوگ بچے ہوئے ہیں، لاک ڈاؤن میں نرمی خطرناک ہوگی، ہمارے پاس کورونا کی ٹیسٹنگ کی گنجائش کم ہے،ٹیسٹنگ وسیع کریں گے تو زیادہ مثبت کیس سامنے آسکتے ہیں۔

چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کا کہنا تھا کہ عوام کی طرف سے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، حکومت سے گزارش اپنی لاک ڈاؤن پالیسی کوسخت کریں، مارکیٹیں اورمال بندکرے۔

شہباز گل کے بیان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ شہبازگل ایسے بیان نہ دیں جن سے ہیلتھ ورکرز کے جذبات کو ٹھیس پہنچے، شہباز گل صاحب آنکھیں کھولیں حالات خرابی کی طرف جارہے ہیں، لاک ڈاون پالیسی پر عمل نہ ہوا تو پوری قوم متاثر ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹراسفندیار کا کہنا تھا کہ حکومت فرنٹ لائن پر لڑنے والے ہیلتھ پروفیشنلز کا تحفظ یقینی بنائے، حکومت کی جانب سے ہیلتھ پروفیشنلز الاؤنس مسترد کرتے ہیں، ہیلتھ پروفیشنلز کیلئے ایک بنیادی تنخواہ ہیلتھ الاؤنس ناقابل قبول ہے۔

چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان نے مزید کہا کہ حکومت کورونا سیزن کے دوران ہیلتھ رسک الائنس کی فراہمی یقینی بنائے، ملک بھر کے ہیلتھ پروفیشنلز ایک پیج پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث ملک میں کورونا کیسز میں اضافہ نہیں ہوا، تاجر برادری شہریوں کی صحت کو ترجیح دے، لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد نہ ہوا تو حالات سنگین ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹراسفندیار نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی نظام صحت کسی بڑے امتحان کا متحمل نہیں ہو سکتا، پاکستانی ہیلتھ اسٹرکچر یورپ اور امریکا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، کورونا نے یورپ اور امریکا جیسے ممالک کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے، حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں