The news is by your side.

Advertisement

پنڈی ٹیسٹ: آئی سی سی کے نوٹس پر پی سی بی کا ردعمل

پنڈی ٹیسٹ کی پچ پر آئی سی سی کے نوٹس پر پی سی بی کا ردعمل آگیا۔

آئی سی سی نے راولپنڈی ٹیسٹ کی وکٹ کو غیرمعیاری قرار دیتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی وینیو کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ میچ ریفری رنجن مدوگالے کی شکایت پر آئی سی سی نے وکٹ پر ایکشن لیا۔

رنجن مدوگالے کا کہنا تھا کہ پچ کا رویہ پانچ دنوں کے کھیل میں بھی بمشکل ہی تبدیل ہوا، باؤنس قدرے کم ہونے کے علاوہ پچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

آئی سی سی کے ایکشن پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان پی سی بی نے کہا کہ ہم آئی سی سی کے فیصلے کو نوٹ کرر لیا ہے اور اسے قبول کرتے ہیں یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے کسی مقام کو ڈیمیرٹ پوائنٹ ملا ہے۔

پنڈی ٹیسٹ کی وکٹ پر آئی سی سی نے ایکشن لے لیا

انہوں نے کہا کہ پی سی بی ایسی پچز دیکھنا اور تیار کرنا چاہتا ہے جو بلے اور گیند کے درمیان یکساں اور دلچسپ مقابلہ فراہم کرے، پی سی بی پراعتماد اور پر امید ہے کہ ہم نہ صرف کراچی اور لاہور ٹیسٹ میں بلکہ مستقبل کے تمام ڈومیسٹک و انٹرنیشنل میچوں میں بھی اچھے مقابلے دیکھیں۔

یاد رہے کہ کوئی بھی گراؤنڈ جو پانچ سالوں میں پانچ ڈی میرٹ پوائنٹس حاصل کرتا ہے اسے 12 ماہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے روک دیا جاتا ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا اور ٹیسٹ کے پہلے چار دنوں میں صرف 11 وکٹیں ہی گری تھیں۔

اس سے قبل چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ڈرا ٹیسٹ میچ کسی بھی صورت میں ٹیسٹ کرکٹ کی اچھی تشہیر نہیں، مجھے شائقین کی مایوسی کا احساس ہے ، میچ کا نتیجہ ضرور نکلنا چاہیے تھا مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ 3 میچز کی سیریز ہے ابھی 2 میچز باقی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں آیا تھا میں نے نئی پیچز لگانے کے بارے میں بات کی جس پر مجھ پر تنقید کی گئی، میں ستمبر میں آیا تو اس وقت سیزن شروع تھا جبکہ پچ کو بنانے میں 5،6 ماہ لگتے ہیں ۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ جیسے ہمارا مارچ میں سیزن ختم ہوگا، ہم نے 50 سے 60 پچز کو دوبارہ بنانا ہے، ہم پوری کوشش کریں گے کہ میچز کا نتجیہ نکلے لیکن ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ پچز تیار ہوجائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں