The news is by your side.

Advertisement

برسوں کی کوشش کے بعد ڈرون کے ذریعے پیزا ڈلیوری شروع

سڈنی: آسٹریلیا میں برسوں کی کوششوں کے بعد ڈرون کے ذریعے کامیاب پیزا ڈلیوری شروع کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کئی سال کی آزمائشی پروازوں کے بعد آسٹریلیا میں ڈرون کے ذریعے پیزا پہنچانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر کنبرا میں گوگل کی بانی کمپنی ایلفابیٹ کی ڈرون سروسز کے ذریعے خوراک اور ادویات فراہم کی جائے گی، ڈرون سروسز کے ذریعے مخصوص علاقے کے گھروں میں ڈیلیوری کی جائے گی۔

ڈرون سروسز فراہم کرنے والی ونگ نامی کمپنی 2014 سے آسٹریلیا میں پیزا اور دیگر اشیا پہنچانے کی آزمائش کر رہی تھی تاہم اس میں کئی مسائل سامنے آتے رہے، مکینوں نے ڈرون پرواز سے پیدا ہونے والے شور کی بھی شکایت کی۔

کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران تین علاقوں میں خوراک، گھر کے استعمال کی چھوٹی اشیا، اور ادویات کی ترسیل تین ہزار مرتبہ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں ڈرون اڑانا قانونی قراردے دیا گیا

آسٹریلوی ایوی ایشن حکام نے ڈرون کی آزمائشی پروازوں کے بعد ونگ کمپنی کی سروسز کو علاقے کے مکینوں اور طیاروں کے لیے خطرے سے پاک قرار دیا۔

کہا گیا ہے کہ ونگ ڈرون اپنے صارفین کو ان کے گھر میں موجود باغیچے میں ایک تار کے ذریعے پیزا، دوا یا کافی پہنچایا کرے گا۔

ایوی ایشن حکام نے ڈرون سروسز پر پابندی لگائی ہے کہ صرف دن کے اوقات میں ڈیلیوری کرے، یہ مرکزی شاہراہوں اور پر ہجوم راستوں پر پرواز نہیں کر سکتا اور چھٹی والے دن صبح آٹھ بجے سے قبل بھی پرواز ممنوع ہوگی۔

خیال رہے کہ کنبرا کے ایک علاقے بونیتھن کے مکینوں نے ڈرون سروسز پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس سے شور پیدا ہو رہا ہے جو کہ ویکیوم کلینر کی طرح تیز اور اونچی آواز ہوتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں