The news is by your side.

Advertisement

وبا اور کوارنٹین

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتیں، قرنطینہ اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات، صحتِ‌ عامّہ کی تنظیموں کی جانب سے آگاہی مہمات جاری ہیں۔ پاکستان میں‌ لاک ڈاؤن اور اس حوالے سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں، مگر خوف کی فضا برقرار ہے، کیوں‌ کہ ابھی یہ وبا پوری طرح‌ ختم نہیں‌ ہوئی ہے۔

چند ماہ کے دوران آپ نے متعدد ناولوں اور فلموں‌ کا ذکر سنا یا پڑھا ہو گا جو اسی قسم کی فرضی اور حقیقی وباؤں اور ہلاکتوں‌ کی افسانوی اور فلمی شکل ہیں، لیکن طاعون کی وبا وہ حقیقت ہے جسے برصغیر کے معروف افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے نہایت خوبی سے اپنے افسانے میں سمیٹا ہے۔

راجندر سنگھ بیدی کا یہ افسانہ ‘کوارنٹین‘ کے نام سے ان کے مجموعے میں‌ شامل ہے جس میں طاعون کے مرض‌ سے اموات، خوف کی فضا، اور قرنطینہ میں‌ ڈالے جانے والوں کے جذبات اور ان کی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس افسانے سے چند اقتباسات پیش ہیں‌ جو کرونا کی وبا میں‌ ہمارے طرزِ عمل اور ماحول سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔

اس افسانے کا آغاز یوں‌ ہوتا ہے:

“ہمالہ کے پاؤں میں لیٹے ہوئے میدانوں پر پھیل کر ہر ایک چیز کو دھندلا بنا دینے والی کہرے کے مانند پلیگ کے خوف نے چاروں طرف اپنا تسلط جما لیا تھا۔ شہر کا بچہ بچہ اس کا نام سن کر کانپ جاتا تھا۔”

“پلیگ تو خوف ناک تھی ہی، مگر کوارنٹین اس سے بھی زیادہ خوف ناک تھی۔ لوگ پلیگ سے اتنے ہراساں نہیں تھے جتنے کوارنٹین سے، اور یہی وجہ تھی کہ محکمۂ حفظانِ صحت نے شہریوں کو چوہوں سے بچنے کی تلقین کرنے کے لیے جو قد آدم اشتہار چھپوا کر دروازوں، گزر گاہوں اور شاہراہوں پر لگایا تھا، اس پر ’’نہ چوہا نہ پلیگ‘‘ کے عنوان میں اضافہ کرتے ہوئے ’’نہ چوہا نہ پلیگ، نہ کوارنٹین‘‘ لکھا تھا۔ ”

“کوارنٹین کے متعلق لوگوں کا خوف بجا تھا۔ بحیثیت ایک ڈاکٹر کے میری رائے نہایت مستند ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جتنی اموات شہر میں کوارنٹین سے ہوئیں، اتنی پلیگ سے نہ ہوئیں، حالاں کہ کوارنٹین کوئی بیماری نہیں، بلکہ وہ اس وسیع رقبہ کا نام ہے جس میں متعدی وبا کے ایّام میں بیمار لوگوں کو تن درست انسانوں سے ازروئے قانون علاحدہ کر کے لا ڈالتے ہیں تاکہ بیماری بڑھنے نہ پائے۔ ”

“اگرچہ کوارنٹین میں ڈاکٹروں اور نرسوں کا کافی انتظام تھا، پھر بھی مریضوں کی کثرت سے وہاں آ جانے پر ان کی طرف فرداً فرداً توجہ نہ دی جا سکتی تھی۔ خویش و اقارب کے قریب نہ ہونے سے میں نے بہت سے مریضوں کو بے حوصلہ ہوتے دیکھا۔ کئی تو اپنے نواح میں لوگوں کو پے در پے مرتے دیکھ کر مرنے سے پہلے ہی مرگئے۔”

طاعون سے ایک ہی روز میں‌ کئی ہلاکتوں‌ کے بعد ان کی لاشوں‌ کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا وہ شاید جیتے جاگتے انسانوں‌ کی مجبوری تھا، لیکن لواحقین پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ اپنے پیارے کی تدفین سے بھی محروم کر دیے جاتے تھے، اس پر مصنف لکھتے ہیں:

“بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ کوئی معمولی طور پر بیمار آدمی وہاں کی وبائی فضا ہی کے جراثیم سے ہلاک ہو گیا اور کثرتِ اموات کی وجہ سے آخری رسوم بھی کوارنٹین کے مخصوص طریقہ پر ادا ہوتیں، یعنی سیکڑوں لاشوں کو مردہ کتوں کی نعشوں کی طرح گھسیٹ کر ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کیا جاتا اور بغیر کسی کے مذہبی رسوم کا احترام کیے، پٹرول ڈال کر سب کو نذرِ آتش کر دیا جاتا اور شام کے وقت جب ڈوبتے ہوئے سورج کی آتشیں شفق کے ساتھ بڑے بڑے شعلے یک رنگ و ہم آہنگ ہوتے تو دوسرے مریض یہی سمجھتے کہ تمام دنیا کو آگ لگ رہی ہے۔”

“کوارنٹین اس لیے بھی زیادہ اموات کا باعث ہوئی کہ بیماری کے آثار نمودار ہوتے تو بیمار کے متعلقین اسے چھپانے لگتے، تاکہ کہیں مریض کو جبراً کوارنٹین میں نہ لے جائیں۔ چوں کہ ہر ایک ڈاکٹر کو تنبیہ کی گئی تھی کہ مریض کی خبر پاتے ہی فوراً مطلع کرے، اس لیے لوگ ڈاکٹروں سے علاج بھی نہ کراتے اور کسی گھر کے وبائی ہونے کا صرف اسی وقت پتہ چلتا، جب کہ جگر دوز آہ و بکا کے درمیان ایک لاش اس گھر سے نکلتی۔”

“ان دنوں میں کوارنٹین میں بطور ایک ڈاکٹر کے کام کر رہا تھا۔ پلیگ کا خوف میرے دل و دماغ پر بھی مسلّط تھا۔ شام کو گھر آنے پر میں ایک عرصہ تک کار بالک صابن سے ہاتھ دھوتا رہتا اور جراثیم کش مرکب سے غرارے کرتا، یا پیٹ کو جلا دینے والی گرم کافی یا برانڈی پی لیتا۔”

گلے میں ذرا بھی خراش محسوس ہوتی تو میں سمجھتا کہ پلیگ کے نشانات نمودار ہونے والے ہیں۔۔۔ اُف! میں بھی اس موذی بیماری کا شکار ہو جاؤں گا۔۔۔ پلیگ! اور پھر۔۔۔ کوارنٹین!

اس افسانے کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے وبا کے خاتمے یا اس کی شدّت میں‌ کمی کا ذکر یوں‌ ملتا ہے۔

اب فضا بیماری کے جراثیم سے بالکل پاک ہو چکی تھی۔ شہر کو بالکل دھو ڈالا گیا تھا۔ چوہوں کا کہیں نام و نشان دکھائی نہ دیتا تھا۔ سارے شہر میں صرف ایک آدھ کیس ہوتا جس کی طرف فوری توجہ دیے جانے پر بیماری کے بڑھنے کا احتمال باقی نہ رہا۔

شہر میں کاروبار نے اپنی طبعی حالت اختیار کر لی، اسکول، کالج اور دفاتر کھلنے لگے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں