The news is by your side.

Advertisement

مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنےکا منصوبہ: مقبوضہ وادی میں مردم شماری ملتوی

سری نگر: مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں ایک اور گھناؤنی چال چلتے ہوئے رواں سال ہونے والی مردم شماری کو پانچ سال کے لئے ملتوی کردیا ہے، مردم شماری ملتوی کرنے کا مقصد مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے ایک اور مذموم بھارتی ہتھکنڈا سامنے آگیا ہے، مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنےکی گھناؤئی سازش کے لئے نریندر مودی نے کمر کس لی ہے۔

ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے کشمیر میں اگلی مردم شماری2021سے2026تک ملتوی کردی ہے، اسی عرصے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنےکی تیز تر کوششیں کی جائیں گی، 2011کی مردم شماری کےمطابق آبادی کا68 فیصدحصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے،28فیصدآبادی ہندوؤں اور4فیصدسکھ اوربدھ مت کےپیروکاروں پرمشتمل ہے۔

رقبے کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر 3حصوں پر مشتمل ہے، 58فیصد رقبہ لداخ،26 فیصدجموں اور16فیصد وادی کشمیرکا ہے، 55فیصدآبادی مقبوضہ وادی کشمیر،43فیصدجموں اور2فیصد لداخ میں رہتی ہے، ڈیموگرافی تبدیل کرنےکا مقصدکسی بھی رائےشماری کےنتائج کوسبوتاژ کرنا ہے۔

مردم شماری کو ملتوی کرنے کا مقصد آئندہ پانچ سال کے دوران اکثریت مسلم آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے، کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنےکی غرض سے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، اس گھناؤنےمنصوبے پر بھارت کو اندرونی اوربیرونی مذمت کا سامنا ہے، حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نےبھی اس عمل کی مذمت کی، ارکان نے اسے کشمیر میں ممکنہ ریفرنڈ م کا نتیجہ تبدیل کرنےکی سازش قرار دیا۔

غیر کشمیریوں کوڈومیسائل دینےکا سلسلہ جاری

مقبوضہ وادی میں لاکھوں مزید غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینےکاسلسلہ بھی جاری ہے، نئےڈومیسائل لا کےتحت18لاکھ سےزائد لوگوں کو کشمیرکا ڈومیسائل دیاجاچکا ہے، جن میں گورکھاکمیونٹی کے6600ریٹائرڈ فوجی بھی شامل ہیں، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کاڈو میسائل جاری کرنےکا اختیار تحصیلدارکوحاصل ہے، اس منصوبے کے تحت اب ہزاروں غیر کشمیری مزدور بھی ڈومیسائل حاصل کرسکیں گے، منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 10 ہزارسےزائد مزدوروں کو بہار سےکشمیر میں منتقل کردیا گیا ہے۔

نئی انتخابی حد بندیاں

اطلاعات ہیں کہ جموں و کشمیر میں نئی انتخابی حد بندی ہونےجارہی ہے، نئے منصوبے کےتحت قانون ساز اسمبلی کی سات سیٹیں بڑھائی جائیں گی، سیٹیں کشمیرکے بجائےجموں کو دی جائیں گی حالانکہ کشمیرکی آبادی زیادہ ہے، آبادی زیادہ ہونےکی وجہ سےکشمیرکی46جبکہ جموں کی37سیٹیں ہیں، اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی وادی میں سادہ اکثریت کیلئے44سیٹیں درکارہیں جو آج تک ہاتھ نہیں آسکی، نئی حلقہ بندی،انتخابات کا ڈھونگ کرکےاکثریت حاصل کرنےکی کوشش کیجائےگی، اسکےبعد5اگست2019کےکالےاقدامات کی توثیق کراکردنیا کو دھوکادیا جائےگا، بھارت کی نام نہادجمہوریت کا اصلی چہرہ دنیا پہلےہی دیکھ چکی ہے۔

بھارتی منصوبہ، نئے ڈویژن کا قیام

مودی سرکار کے منصوبے کے تحت مقبوضہ وادی میں ایک نئےڈویژن کا قیام بھی کیاجارہاہےتاکہ جموں وکشمیرکا اثرک م کیا جائے، ڈویژن میں رمبان،کشتوار،ڈوڈا، سوفیان، انتناگ،کلگم کےاضلاع شامل ہوں گے۔

بھارتی افواج کے ہاتھوں قبائلی مسلمان تشدد کا شکار

مقبوضہ کشمیر میں12فیصد آبادی بکروال پرمشتمل ہےجن کی اکثریت مسلمان ہے،مقبو ضہ وادی میں12فیصدآبادی بکروال پر مشتمل ہے، ایک لاکھ سے زائد بکروال آبادی پر معاشی اورمعاشرتی مظالم ڈھائےجا رہےہیں، انتہاپسند ہندوؤں نے8سالہ بکروال بچی کو اجتماعی زیادتی کےبعد قتل کیا تھا، ہزاروں مسلم بکروا ل خاندانوں کو جنگلوں سے بےدخل اور بےگھرکیاجارہاہے

اس کے علاوہ یہاں کی گجر قبائلی آبادی کو بھی مسلمان ہونےکی سزادی جارہی ہے، یہاں آئے روز خانہ بدوشوں کےگھروں کا جلاؤ گھیراؤ عام ہے، خوف،تشدد اورعدم تحفظ کےباعث بکروال خانہ بدوش ہجرت پر مجبور ہیں، 20ہزار سے زائد پنجاب،ہماچل پردیش،ہریانہ، اترکھنڈ کو ہجرت کرچکے ہیں، بھارت ہتھکنڈوں نے کشمیریوں میں نفرت اور آزادی کےجذبےکو مزید تقویت دی ہے۔

پنڈتوں کے لئے اسرائیل طرز پر الگ کالونیاں بنانے کا سلسلہ جاری

وادی میں لاکھوں مقامی کشمیریوں کو بےگھراور بے زمین کرنےکا منصوبہ بھی جاری ہے، آرایس ایس کی باندی بی جے پی عرصے سے یہ منصوبہ بنارہی تھی، 4سے5لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرزپر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں، ایک طرف کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنےکامنصوبہ جاری ہے دوسری طرف امتیازی شہریت قانون سےلاکھوں مسلمانوں کو ریاستی تحفظ سےمحروم کردیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں اونےپونےدام جائیداد خریدنےکی دوڑ لگی ہوئی ہے، اس دوڑ میں ملکی،غیر ملکی کمپنی زکےساتھ ساتھ بھارتی فوج بھی شامل ہے، سیکیورٹی فورسز کیلئےکشمیر میں زمین حاصل کرنےکیلئے این اوسی کی شرط ختم کی جاچکی، بارا مولامیں فوجی کیمپ کیلئے129کنال اراضی ہتھیانےکاعمل جاری ہے، بھارتی افواج پہلےہی کشمیر میں53ہزار353ہیکٹرز اراضی پر قابض ہیں، کیونکہ دہلی سرکار نے افواج کو اسٹریٹجک ایریاز کےقیام کی اجازت دے رکھی ہے۔

کنٹرول آف بلڈنگ ایکٹ،جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ بھی تبدیل کردیا گیا ہے، زمین کی خریداری کی اجازت دے کر انتہاپسند ہندوؤں کو قبضےکا راستہ دیاگیا قوانین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر میں تعمیرات کی کھلی آزادی دےدی گئی ہے، جس سے اسرائیلی طرزپر کشمیر کوگیریژن سٹی بنانےکی بھارتی سازش کھل کر سامنےآئی ہے۔

Image result for kasmhiri property sold

مقبوضہ کشمیر میں مقامی لوگوں کی زمینیں ضبط اور نیلام کی جا رہی ہیں، مودی سرکار نے20ہزار کنال زمین کوڑیوں کےدام انتہاپسندوں کیلئےہتھیالی ہے، کشمیرگلوبل انوسٹرزسمٹ میں43 کمپنیزنے137000کروڑروپےکی سرمایہ کاری کی، رمایہ کاری دراصل مقبوضہ وادی کی اراضی،وسائل کےاستحصال کامنصوبہ ہے، بھارتی حکومت کشمیر میں2لاکھ ایکڑ سےزائد مذموم مقاصد کیلئےخریدنےجارہی ہے، ان میں سے15ہزار ایکڑ دریاؤں سے ملحقہ اراضی ہے۔

قبضہ گیری کی ہمہ گیربھارتی مہم سےکشمیر کےوجود کوخطرہ ہے، ان کارستانیوں سےمقبوضہ کشمیرمیں معاشی ومعاشرتی بدحالی میں اضافہ ہوا، اگست2019کےاقدام سے ایک سال میں کشمیری معیشت کو5.3بلین ڈالرزکانقصان ہوا، بی جےپی کشمیر میں ہندووزیراعلیٰ لانےکیلئےبڑےپیمانےپرسازشیں کررہی ہیں، سیاسی پارٹیوں میں جوڑتوڑ،جموں و کشمیر اپنی پارٹی کا قیام بھی اسی سازش کاحصہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں