The news is by your side.

Advertisement

‘پلازمہ اور ڈیکسامیتھاسون کورونا کا علاج نہیں’

کراچی: کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کا کہنا ہے کہ پلازمہ، ڈیکسامیتھاسون اور ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں ہے۔

برطانوی ماہرین نے ڈیکسا میتھاسون کو کورونا کے شدید مریضوں پر استعمال کو موثر قرار دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں اس کے استعمال پر غور کیا گیا جب کہ پلازمہ کے کامیاب نتائج کے بعد ملک بھر میں کورونا مریضوں کا پلازمہ سے علاج کیا جارہا ہے۔

اس صورتحال پر کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کا ماننا ہے کہ پلازمہ، ڈیکسامیتھاسون اور ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں ہے بلکہ یہ صرف مزیدحالت خراب ہونےکو کم کرتی ہے اور کسی عام شخص کومعلوم نہیں کہ ان دواؤں کے بعدکیانتائج ہوسکتےہیں۔

ایڈوائزری گروپ کے مطابق پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں 13.6ملین ڈیکسامیتھاسون انجکشن موجودہیں، ڈیکسامیتھاسون بہت سستی دوا ہےاس کی کوئی شارٹیج نہیں، میڈیاخبریں چلاکردواؤں کی شارٹیج نہ ہونےدے۔

ایکسپرٹ گروپ کا کہنا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکئین کی کوئی افادیت نہیں بلکہ نقصان زیادہ ہیں، ہائیڈروکسی کلوروکئین کی فروخت کالائسنس واپس لےلیاگیا، پاکستان میں ہائیڈروکسی کلوروکئین کےتمام ٹرائلزروک دیےگئےہیں۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم ڈیکسا میتھاسون کو دو دھاری تلوار قرار دے چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کا فائدہ وینٹی لیٹر کے مریضوں پر ہے لیکن پاکستان میں یا دنیا میں اس کا کوئی بھی کلینیکل فائدہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ میں درجنوں مریضوں کو ٹریٹ کررہا ہوں جو مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں یا جو مریض گردے کے مرض میں مبتلا ہیں ان کے لیے ہم دیگر دوائیں استعمال کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیکسا میتھاسون کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے بہت سائیڈ ایفیکٹس ہیں اس دوا کے استعمال سے فالج اورگردوں کے مرض کا خطرہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں