The news is by your side.

Advertisement

پشاور: زرعی ڈائریکٹوریٹ پرحملہ‘ وزیراعظم سمیت سیاسی رہنماؤں کی مذمت

پشاور: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت سیاسی رہنماؤں نے پشاور زرعی ڈائریکٹوریٹ پرہونے والے حملے میں شہید افراد کے لواحقین سےتعزیت کی ہےاورقیمتی جانوں کے ضیاع پراظہارافسوس کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پشاور زرعی ڈائرریکٹوریٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا، زخمیوں کےاہل خانہ کےغم میں برابرکے شریک ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ایگریکلچرٹریننگ انسٹیٹیوٹ پشاورمیں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خون کی ہولی کھیلنے والےانسانیت اوراسلام دونوں کے دشمن ہیں۔

عمران خان نے بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے پراللہ کا شکرادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کوکیفرکردارتک پہنچانے والےجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ پولیس کی پیشہ وارانہ بنیادوں پرتشکیل نوبارآورثابت ہورہی ہے، حملے کوممکنہ طورپرکم ازکم وقت میں ناکام بنانا باعث اطمینان ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعےکے حقیقی ذمہ داروں تک رسائی کے لیے جامع تحقیقات کی جائیں اورحکومت زخمیوں کے لیے علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرے۔

عمران خان نے شہدا کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہارکیا اور حملےکا نشانہ بننے والوں کی جلد اورمکمل شفایابی کے لیے دعا کی۔

گورنرخیبرپختونخواہ اقبال ظفرجھگڑا نے پشاورحملےکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسزنے حملہ ناکام بناتے ہوئے بڑی تباہی سے بچا لیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرکے دم لیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے بھی ٹویٹر پر اپنے پیغام میں زرعی ڈائریکٹوریٹ میں وحشیانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہدا، زخمیوں کےاہل خانہ کےغم میں برابرکے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہدا، زخمیوں کے خاندانوں کو صبرعطا کرے۔


پشاور: زرعی ڈائریکٹوریٹ پردہشت گرد حملہ


واضح رہے کہ پشاور زرعی ڈائریکٹوریٹ پردہشت گردوں کے حملے میں 9 افراد شہید، 35 زخمی ہوگئے جبکہ پانچوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں