quetta وزیر اعظم خاقان عباسی کا بلوچستان کیلئے دس سالہ پیکج کا اعلان
The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم خاقان عباسی کا بلوچستان کیلئے دس سالہ پیکج کا اعلان

 کوئٹہ : وزیر اعظم شاھد خاقان عباسی نے بلوچستان کیلئے دس سالہ پیکج کا اعلان کردیا، انہوں نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منگل کو کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کیا، انہوں نے گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ اراکین اسمبلی اور عمائدین شہر اور ہزارہ کمیونٹی کے وفود سے ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں انہوں نے امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، اجلاس میں کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس موقع پر صوبائی سیکریٹری داخلہ نے امن و امان سے متعلق بریفنگ دی، اجلاس میں زائرین کے لیے سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی میں سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں بے مثال ہیں، صورتحال بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریں گے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر لانے کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکج دیا جارہا ہے۔

ہر دو سے تین ماہ میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا، وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کو جن وسائل کی کمی کا سامنا ہے انہیں پورا کیا جائیگا۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہ ملک میں کچھ نہیں چل رہا سیاسی حکومت چل رہی ہے جو اپنی مدت پوری کرےگی اورجمہوریت آگے چلے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں صوبے میں امن وامان سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے،

قبل ازیں وزیر اعظم شاھد خاقان عباسی کے کوئٹہ پہنچنے پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی جس کے بعد وزیر اعظم 40 گاڑیوں کے قافلے کے ہمراہ  گورنر ہاؤس پہنچے۔

 وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے ایئر پورٹ سے شہر تک ٹریفک کا نظام دن بھر بری طرح متاثر رہا جبکہ وزیراعظم کے روٹ میں واقع اسکول بھی بند رہے۔

گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے گورنر محمد خان اچکزئی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کی ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں