اقوام متحدہ مسئلہ کشمیرپراپنی قراردادوں پرعمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے، نوازشریف -
The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ مسئلہ کشمیرپراپنی قراردادوں پرعمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے، نوازشریف

اسلام آباد/ نیویارک: وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترویں اجلاس سے خطاب کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ناکام رہا ہے۔

وزیراعظم عالمی رہنماوٗں کے سامنے آپریشن ضرب عضب، پاک بھارت کشیدگی اور سلامتی کونسل میں اصلاحات جیسے اہم معاملات پر گفتگو کی۔

وزیراعظم کی تقریر میں افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششیں بھی زیر گفتگو آئیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترویں اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماوٗں سے کی جانے والی تمام ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیرکو مرکزی اہمیت دی ہے اورعالمی سطح پر پاکستان کا موقف اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترویں اجلاس سے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔


وزیراعظم کا خطاب


 وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے آغاز میں اقوام متحدہ کے کردار کو مجموعی طور پرسراہتے ہوئے کہا کہ اقواممتحدہ نے سرد جنگ کے زمانے میں دنیا کو محفوظ جگہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کا کردار انتہائی اہم ہے پاکستان ایک زیادہ متحرک اور جمہوری سلامتی کونسل کا خواہاں ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہونے والا ملک ہے اور ہمارے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور ہم دنیا بھر سےدہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔

مسئلہ فلسطین

وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کے حل میں اپنا کردار ادا کرے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ فلسطین اقوام متحدہ کا مستقل رکن بنے۔

نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں مشکلات کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر فلسطین کا پرچم دیکھ کر خوشی ہوئی۔

افغانستان میں قیام امن

افغانستان میں قیام امن پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات دونوں میں سے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہیں اور پر امن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کی خواہش ہے۔

افغانستان میں قیام امن کےلئے انہوں نے چین کےکردار کو بھی سراہا۔

مسئلہ کشمیر

وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر عالمی رہنماوٗں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کی وجہ ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیری آج بھی حقِ خود ارادیت سے محروم ہیں اور ان کے خلاف بدترینریاستی آپریشن جاری ہے جس کے سبب ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہیرد ہوچکے ہیں۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کشمیر کے معاملے میں اپنی قراردادوں پرعمل کرانے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا لازمی حصہ ہیں اور مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں پائیدار قیام امن ممکن نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے کوشاں ہے۔

پاک بھارت کشیدگی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ باوجود اسکے کہ ہم پر امن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں  لیکن لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے جارحیت برھتی ہی جارہی ہے جوکہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت چھ امور پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا، سیاچن جو کہ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے وہاں سے فوجوں کی غیر مشروط واپسی ہونی چاہیئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں