site
stats
اہم ترین

وزیر اعظم کا پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان

اسلام آباد: وزیر اعظم نواز شریف نے پنامہ لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے عدالتی کمیشن بنانے کااعلان کردیا۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں پہلی بار اپنے متعلق اور ذاتی حوالے سے کچھ کہنے کے لیے آیا ہوں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کیلئے مجھے اورمیرے خاندان کو نشانہ بنارہے ہیں، الزامات کےحوالےسےکچھ حقائق پیش کرناچاہتا ہوں، میرے والد نے اتفاق فاؤنڈری کی بنیادی رکھی، قیام پاکستان تک اتفاق فاؤنڈریز مستحکم ادارہ بن چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد ایک شاخ ڈھاکا میں بھی قائم ہوچکی تھی، میرےوالد نے بھٹو دورمیں36نئی صنعتیں قائم کیں، جنوری 1972 کو بھٹو کی حکومت نے اتفاق فاؤنڈریز پر قبضہ کرلیا،ظلم و زیادتی کے باوجود والد کے حوصلے اور عزم میں کمی نہ آئی، والد نے تباہ حال  ڈھانچے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں میرے والد قومی خزانے میں کروڑوں روپے جمع کراتے رہے، سن 1981 میں فیکٹری کامال لانیوالے بحری جہازکو مال اتارنے کی اجازت نہ دی گئی،خام مال اتارنے سے روکنے پر 50کروڑ کا نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست میں آنے کے بعد بھی ذاتی انتقام کا نشانہ بنتے رہے، مجھے14ماہ تک جیل میں رکھا گیا، ہماراماڈل ٹاؤن کا گھربھی چھین لیاگیا،ہمارے کاروبار کو روک دیا گیا،تالے لگا دیے گئے، سب کےسامنے ہے کہ ہمیں ملک بدرکردیا گیا تھا، ہمیں7 سال بیرون ملک رہناپڑا، سالہا سال تک یک طرفہ احتساب کے پل صراط پر چلتےرہے لیکن قانون و انصاف کے ہر معتبر فورم سے سرخرو ہو کر نکلے۔

وزیر اعظم نے اپنے دونوں صحابزادوں کے حوالے سے بتایا کہ حسن نواز1994سےلندن میں مقیم ہیں جبکہ حسین نواز 2000 سے سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ کبھی اقتدارکوکاروبار سے نہیں جوڑا ہے صرف اتنا کہوں گا کہ کرپشن سے کمانے والے  اپنے نام کمپنی نہیں رکھتے ہیں، ہم نےپونے6ارب روپےکےقرضےواپس کئے انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ قرض بھی اتارےجوہم پرواجب نہیں تھے، سعودی بینکوں سے قرض لے کر مکہ میں کارخانہ لگایا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیر اعظم نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان کردیا انہوں نے کہا کہ کبھی سیاست کواقتدار سے منسلک نہیں کیا،یہ کمیشن سپریم کورٹ کےایک سابق جج کی سربراہی میں بنے گا، الزامات لگانے والے کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top