The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان نے بجٹ 20- 2019 کی تجاویز کی منظوری دے دی

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے بجٹ 20- 2019 کی تجاویز کی منظوری دے دی، بجٹ میں ریلیف کاحجم40 ارب روپے تک ہوسکتا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپینشن میں پندرہ فیصد اضافے کی تین تجاویززیرغورہیں ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی اور معاشی ٹیم کو غریبوں پر کم سےکم بوجھ ڈالنے کی ہدایت۔کرتے ہوئے کہا بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔

بجٹ تجاویز برائے مالی سال 20- 2019 سامنے آگئیں، بجٹ میں ریلیف کا حجم40 ارب روپے تک ہوسکتا ہے جبکہ بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بجٹ میں مینوفیکچرنگ سیکٹرکیلئےڈیوٹیزاورٹیکسز ریلیف کی تجاویز اور آف شوراثاثہ جات پر پریزمپٹوٹیکس کے نفاذ کی تجویز بھی دی گئی ہے، ان اداروں کے لئےگریڈ 17 تا 21 کی 10 نئی اسامیوں کی منظوری دی جائے گی۔

غیرمنقولہ جائیداد، سیکورٹیزپرکیپٹل گین ٹیکس، ہولڈنگ پیریڈ کی میعاد بڑھانے، غیرمنقولہ جائیداد پر ویلیو ایشن ریٹ75 فیصد کے برابر لانے، پٹرولیم مصنو عات پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے اور بجٹ 20-2019 میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی شرح بڑھانےکی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ 20-2019 میں ایڈیشنل کسٹمزڈیوٹی کی شرح بڑھانے ، تمام اسپیشل پروسیجرزپرنظر ثانی ختم کرنے، متعدد اشیا کی قیمت پرسیلز ٹیکس لاگوکرنے اور ایل این جی درآمد پر 5 فیصد مشروط کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے تجویز دی ہے۔

اسٹیل سیکٹرسے بجلی کے بلز پر معمول کےمطابق ٹیکس وصولی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ چینی پرجی ایس ٹی شرح بڑھانے،گیس پر ایف ای ڈی عائد کرنے، چھٹے شیڈول میں دی جانیوالی غیر ضروری ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کاروبار میں آسانیاں لانے کیلئے سنگل پورٹل متعارف کرانے کی تجاویز پیش کی گئی۔

بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے لئے آسان ٹیکس نظام متعارف کرانےکا امکان ہے جبکہ بجٹ میں برآمدی ومینوفیکچرنگ شعبے کیلئے ٹیکس میں ریلیف بھی دیا جارہا ہے۔

کسٹمز ایکٹ کے تحت اسپیشل ججزکی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو دینے کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہیں جبکہ بجٹ میں عائد نئے ٹیکس ملکی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے برابر ہوں گے، پٹرولیم مصنوعات پر عائد سیلزٹیکس کی شرح میں اضافہ کی تجویز جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں 60ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ بارہ سو پچاس ارب روپے لگایا  گیا ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں تقریباًچودہ سو ارب روپے کا اضافہ کیا جائےگا۔

چینی پرسیلزٹیکس سات فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کرنے اور مڈل مین کی آمدن پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویزہے جبکہ پولٹری، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پرٹیکس اورڈیوٹیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

لگژری اشیا کی درآمد پردوفیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر تین فیصد کرنےکی تجویز ہے اور پانچ برآمدی شعبوں کیلئے زیرو ریٹنگ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور  ہے۔

نوجوانوں کیلئےآسان قرضوں کاپروگرام شروع کرنے کیا جائےگا، جبکہ بجٹ میں پانچ ارب روپےکا ریسرچ سپورٹ فنڈ قائم کرنے کی تجویز اور پانچ ارب روپے کا زرعی ٹیکنالوجی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں پندرہ فیصد اضافے کی تین تجاویز زیر غور ہیں۔

خیال رہے پاکستان تحریک انصاف اپنا پہلا بجٹ گیارہ جون کو پیش کرےگی، منگل کو پیش کئے جانے والے اس بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کاحجم اٹھارہ سو ارب روپے سے زائد ہوسکتا ہے، تاہم پاک فوج نےآئندہ مالی سال کیلئے اضافی دفاعی بجٹ نہ لینےکا فیصلہ کیا ہے۔

بجٹ منظوری کیلئ کابینہ کا اجلاس طلب کر لیاگیا ہے، ذرائع کے مطابق کابینہ چھ ہزار آٹھ سو ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے گی، بجٹ خسارہ تین ہزار ارب روپے سے زائد ہوسکتاہے، اضافےکی حتمی منظوری کابینہ منگل کو دےگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں