The news is by your side.

ہماری حکومت چاروں صوبوں کوساتھ لےکرچلےگی ،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم نے کہاہماری حکومت چاروں صوبوں کوساتھ لےکرچلے گی اور تصفیہ طلب معاملات افہام وتفہیم سےحل کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا، اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم اور خیبرپختونخواکونیٹ ہائیڈل پرافٹ دینے کاجائزہ لیاگیا اور کے پی کو بقایا جات رواں مالی سال میں ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں پانی کی تقسیم پرشکایات کے لئے ٹیلی میٹرنصب کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، صوبوں کی جانب سے ٹیلی میٹرنصب کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے کیا گیا۔

چاروں صوبائی وزرائےاعلیٰ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ، جس میں صوبوں میں امن وامان کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ترقیاتی منصوبوں پرعملدرآمد اور ان کی شفاف تکمیل پر بھی بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہماری حکومت چاروں صوبوں کوساتھ لےکرچلےگی، وفاق اورصوبوں میں تصفیہ طلب معاملات افہام وتفہیم سےحل کریں گے، آبی وسائل کی تقسیم کے لئے ٹیلی میٹری سسٹم کی انسٹالیشن بہت ضروری ہے۔

اجلاس میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے جگہ کی دستیابی پر بات چیت اور فاٹا کو صوبوں کے حصے سے 3فیصد وسائل سے متعلق مشاورت کی گئی۔

خیال رہے وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا یہ دوسرااجلاس تھا۔

یاد رہے 24 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا پہلا اجلاس ہوا تھا، جس میں سات نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : صوبوں کومزید خود مختار بنانا چاہتے ہیں: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم صوبوں کومزید خود مختاربناناچاہتے ہیں، وفاق صوبوں کوساتھ لے کر چلنے کا خواہاں ہیں، چاروں صوبوں میں یکساں صوبائی مہم شروع کی جائے گی۔

اس موقع پر وزیراعظم نےبلدیاتی نظام،وسائل کی باہمی تقسیم کے متعلق وژن سےآگاہ کیا اور کہا تھا کہ صوبوں کو مزید با اختیار بنانا چاہتے ہیں، وسائل کی شفاف تقسیم نچلی سطح تک یقینی بنائی جائے گی۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پٹ فیڈراورکیرتھرکینال میں پانی کی کم فراہمی کے معاملے پر غور کیا گیا، نیشنل واٹرکونسل صوبوں میں پانی کی تقسیم کےفارمولے پرسفارشات دے گئیں جبکہ وفاق، صوبوں کا نیٹ ہائیڈل منافع سے متعلق اےجی این قاضی فارمولےپرعمل درآمد پر اتفاق کیا گیا اور ساتھ ہی پٹرولیم پالیسی 2012 میں حکومت سندھ کی ترامیم کواقتصادی رابطہ کمیٹی کوسپرد کرنےکا فیصلہ کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں