The news is by your side.

Advertisement

کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے،وزیراعظم

نوشہرہ : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے، یہاں طاقتور قانون کے نیچے نہیں آتا،پی ڈی ایم جیسےاتحاد بناتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نوشہرہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہاؤسنگ اسکیم کے سنگ بنیاد پر پوری ٹیم کو مبارکباددیتاہوں، پہلی بار کم آمدن والے افراد کیلئے کوششیں ہورہی ہیں۔

عمران خان کاکہنا تھا معاشرے کی پہچان امیر لوگوں سے نہیں ہوتی ، کمزور طبقے کی زندگی سے ہوتی ہے ، جو معاشرہ کمزورطبقے کا دھیان نہیں رکھتا وہ اوپر نہیں جاتا۔

وزیراعظم نے کہاکہ نبیﷺ کے دورمیں دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آیاتھا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا قانون کی بالادستی کا مطلب ہے ، کمزور کو طاقتور سے تحفظ چاہیے ہوتاہے ، طاقتور خود کو ہمیشہ قانون سے خودکو اوپر رکھتا ہے، کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک آدمی کی بنیادی ضروریات پوری کرناحکومت کی ذمہ داری ہے، دن بھر محنت کرنیوالے کی خواہش ہوتی ہے شام کو اپنے گھر جاؤں، بیوی بچوں کے سر پر چھت نہ ہوتو یہ سب سے برا وقت ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے مزیدکہا کہ حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ ہر آدمی کو گھر بنا کر دے دے، اس اسکیم کے تحت حکومتی زمین پر شہریوں کوسبسڈی دی جارہی ہے، وفاقی حکومت ہر گھر کیلئے 3لاکھ روپے کی سبسڈی دےرہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہاں کچھ لوگوں کوقانون کی بالادستی سمجھ نہیں آرہی، قانون کی بالادستی کامطلب طاقتور کو قانون کے تابع کرنا ہے، یہاں طاقتور قانون کے نیچے نہیں آتا،پی ڈی ایم جیسےاتحاد بناتا ہے، بناناری پبلک میں طاقتور کیلئے الگ قانون ہوتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے بینکوں سے معاہدے کئے ہوئے ہیں، نوشہرہ کی 9ہزار800کینال میں ہاؤسنگ اسکیم بنے گی۔

فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہر پھیلتے جائیں گے تو فوڈ سیکیورٹی کامسئلہ پیداہوگا زرعی زمینوں کی کمی کے باعث خوراک کے مسائل پیداہورہےہیں۔

بینک قرضوں سے متعلق عمران خان نے کہا کہ گھروں سے متعلق بینک قرضوں کاقانون عدالتوں میں زیرالتوا تھا، بینکوں کو ابھی چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کی عادت نہیں ہے ، بینکوں کےسربراہان سے کہتاہوں اپنے عملے کو ٹریننگ دیں، گھروں کیلئے درخواست دینے والوں کیلئے بینکوں کا کام ابھی بھی تیز نہیں۔

ہیلتھ کارڈ سے حوالے سے ان کا کہنا تھا کےپی حکومت کو ہیلتھ کارڈ دینے پر خراج تحسین پیش کرتاہوں، امیر ترین ملک بھی اپنے لوگوں کو اتنی بڑی ہیلتھ کارڈ سہولت نہیں دیتا، ہمارے پاس جو پیسے ہیں ان سے صرف بنے ہوئے اسپتالوں کو ٹھیک کرسکتے ہیں، اسپتالوں کا جال پھیلے گا ، پرائیوٹ سیکٹر میں کمپی ٹیشن ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں انسانیت تھی ، ایک فلاحی نظام تھا، جب بھی کوئی معاشرہ اوپر آیا وہ ریاست مدینہ کے اصولوں سے آیا، جوبھی مسلمان قوم ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلےگی وہ اوپر آجائے گی،اللہ نے اصول بنائے ہوئے ہیں جو ان پر چلے گا برکت آئیگی اور عزت ملے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں