The news is by your side.

Advertisement

یہ کسی کےباپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، دہرا معیار نہیں چلنے دوں گا، وزیراعظم چیئرمین ایف بی آر پر برہم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین ایف بی آر پر خفگی کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ کسی کےباپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، اپنی حکومت میں دہرا معیار نہیں چلنے دوں گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت شوگرکمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد اجلاس ہوا ، جس میں عمران خان نے سفارشات  پر عملدرآمد کیلئےنو کمپرومائز پالیسی اپنانےکافیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس کےدوران چیئرمین ایف بی آر پر خفگی کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ کسی کےباپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، وہ دور گیا جب اشرافیہ کی معلومات  عوام تک نہیں پہنچتی تھی، اپنی حکومت میں دہرا معیار نہیں چلنے دوں گا۔

عمران خان نے سوال کیا کہ دکاندار کاٹیکس ریکارڈ پتہ چل سکتا ہے توشوگر مل مالکان کاکیوں نہیں؟ چیئر مین ایف بی آر بتائیں 15 دن میں کام کیوں نہیں ہو سکا؟

وزیراعظم نے شوگر فیکٹریوں کے باہر کیمرے نہ لگانے پر بھی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اچھی طرح جانتا ہوں کہ تاخیری حربے کون کر رہا ہے ، بروقت کام مکمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا، عام دکاندار سےجو سلوک ہو رہا ہے وہی بڑے شوگر مل مالکان کےساتھ ہوگا۔

اجلاس میں بتایا کہ شوگرفیکٹریوں کے فرانزک آڈٹ میں ثابت ہونے والے گھپلوں پربھی کارروائی کی گئی اور ٹیکس ریکارڈمیں ٹیمپرنگ کرنےوالی فیکٹریوں کو 345  ارب کے ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس جاری کئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی تحقیقات میں 345 ارب کے ٹیکس میں گھپلے کاانکشاف ہوا تھا، شوگر کمیشن رپورٹ کےبعدسےحکومت کو سیلز ٹیکس کی مد میں 80 فیصد سے زائد ریکوری کی گئی ، پہلے 16ارب ٹیکس ملتا تھا اب 29 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

ذرائع کے مطابق 2015 میں لیگی حکومت کی جانب سےایف بی آر قانون میں غیر ضروری ترمیم کا انکشاف ہوا ، ایف بی آر کوجان بوجھ کر سیل ٹیکس کا ریکارڈ کسی سےشیئر نہ کرنےکاپابند بنایا گیا ، ایف بی آر کو حکومتوں سےبھی معلومات کےتبادلے سے روکا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کےعلم میں آیا تو 15 دن میں ترمیم واپس لینے کی ہدایت کی ، 15 دن گزر جانے کے باوجود چیئر مین ایف بی  آر کام مکمل نہ کر سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں