The news is by your side.

Advertisement

مسلمانوں کے حقوق کی بات پر دنیا اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر جان چھڑاتی ہے: وزیر اعظم

مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن صرف اس لیے ہے کہ وہاں مسلمان ہیں: وزیر اعظم کا او آئی سی رابطہ گروپ کے اعزاز میں عشائیہ

نیویارک: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی بات پر دنیا اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر جان چھڑاتی ہے، کشمیر کے 80 لاکھ افراد کی جگہ 80 لاکھ یورپی، عیسائی یا یہودی ہوتے تو عالمی برادری کا رد عمل کیا ایسا ہی ہوتا؟

تفصیلات کے مطابق نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ برائے کشمیر کے وفد کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

وزیر اعظم نے عشائیے سے خطاب بھی کیا، اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے لیے اہم وقت ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ 80 لاکھ لوگ غیر قانونی طور پر قید کر دیے گئے، بھارت نے غیر آئینی طور پر 51 دن سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا رکھا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن صرف اس لیے ہے کہ وہاں مسلمان ہیں، مقبوضہ وادی میں ہندو کشمیریوں کو لاک ڈاؤن کا سامنا نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری سے جیسی توقعات تھیں ویسا ردعمل نہیں آیا۔ یہ 80 لاکھ یورپی، عیسائی یا یہودی ہوتے تو عالمی برادری کا رد عمل ایسا ہوتا؟

انہوں نے کہا کہ بھارت جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے 21 صدی میں ایسی بکواس کہیں نہیں، مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش رہتی ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کی بات پر دنیا اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر جان چھڑاتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کے مشترکہ پلان کی تشکیل ہے، 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کو درپیش مصائب سے متعلق سمجھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو 51 روز گزر گئے، دنیا کو بتانا ہے کشمیر میں جانور نہیں انسان بستے ہیں، مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشت گردی کا تخلیق کار مودی ہے۔ مودی ایسے گھوم رہا ہے جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا سربراہ ہو، مودی کی یہ کیسی بکواس جمہوریت ہے جہاں انسانوں سے ایسا سلوک ہوتا ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں