The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کی اسرائیل سے متعلق دو ٹوک الفاظ میں‌ وضاحت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے حوالے سے وہی پالیسی آج بھی رکھتا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948 میں بیان کی۔

اسلام آباد میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان قائد اعظم کی پالیسیوں پر کھڑا ہے، انہوں نے 1948 میں اسرائیل کے حوالے سے جو خطاب کیا ہم آج بھی اُسی پر کھڑے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے واضح کیا تھا کہ فسلطین کی خود مختاری اور آزادی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ  ’ایران ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، کسی بھی ملک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی دباؤ ڈالا‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت کی سب سےبڑی کامیابی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے، لابنگ کی وجہ سے ہمیں عالمی سطح پر کامیابیاں ملیں جن کی سابق سفارت کار بھی گواہی دیں گے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا اسرائیل سے متعلق دو ٹوک بیان آگیا

اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تک یہ کہاجاتا تھابھارت اچھا اورپاکستان دہشت گردوں کا ملک ہے مگر ہم نے دنیا کو  کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم دکھائے اور ہر فارم پر اُن مظالم کو اجاگر کیا۔

افغانستان کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان ماضی میں بھارت سے زیادہ قریب تھا، مگر اب ہمارے تعلقات بہترین ہیں، افغان امن عمل میں پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں امریکامیں ہمیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا اور ڈو مور کا مطالبہ کرتا تھا مگر اب ہماری کامیاب پالیسیوں کی وجہ سے وہ پاکستان کی تعریفیں کر رہا ہے، آج پاکستان سفارتی سطح پر جس مقام پر کھڑا ہےماضی میں کبھی وہ مقام نہیں ملا تھا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں