The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کا ایک بار پھر سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہونے سے انکار

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہونے سےانکار کردیا ،مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایسا وزیراعظم ملا جواپنے گھر میں ذاتی اخراجات سے رہ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ سمیت وفاقی وزراکی وزیراعظم سے وزیراعظم ہاؤس منتقل ہونےکی درخواست کی، جس پر تفصیلی بحث کےبعدعمران خان نے وزیراعظم ہاؤس منتقل ہونے سےانکار کر دیا۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اے آر وائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایسا وزیراعظم ملا جواپنے گھر میں ذاتی اخراجات سے رہ رہا ہے، کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم کی رہائش سےمتعلق گفتگو ہوئی، بعض وزرانے کچھ وجوہات پر وزیراعظم ہاؤس منتقل ہونے کی درخواست کی تاہم وزیراعظم کسی خوف اور ڈر کے بغیر اپنی ذاتی رہائش گاہ میں ہی مقیم ہیں۔

بابراعوان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان نےایک ڈپٹی سیکرٹری کے کہنے پر ڈو مور کیا، تبدیلی آ چکی ہےجواب ایبسولیٹلی ناٹ کی صورت میں دیا گیا، وزیراعظم کو کہا گیا فلاں سے جھگڑاہو جائے گا ، فلاں ناراض ہو گا لیکن عمران خان نے کہا پاکستان کا مفاد سب سے پہلے ہو گا۔

مشیر پارلیمانی امور نے کہا کہ افغانستان سے متعلق عمران خان اور اداروں کی پالیسی درست تھی، اربوں ڈالر لگا کر مصنوعی دھماکے کروانے والا ملک ہی نکل گیا، نواز شریف نے اپنے دورمیں اداروں کے سربراہان سے محاذ آرائی کی، ایک اپوزیشن لیڈر ایسا نہیں تھا جس پر نواز شریف نے پرچہ نہ کرایا ہو۔

نواز شریف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نےانکوائریاں کرائیں تا کہ جانے کےبعدپرچہ ہو جائے، نواز شریف کے ویزہ میں توسیع پہلے بھی نہیں ہوئی تھی، لندن میں بیماری کا ویزہ صرف 11 ماہ کا ملتا ہے، کورونا کے دوران 6 ماہ کی توسیع خود لندن نے دی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکام اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ نواز شریف بیمار نہیں، بیماری اس قابل نہیں تھی کہ کسی جنرل پریکٹیشنر کو دکھا دیتے، نواز شریف نےجسے دکھایا وہ بھارتی پاسپورٹ ہولڈر مسٹر لارنس ہے، عمران خان سندھ میں بھی حکومت بنائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں